اسلام آباد: پاکستان نے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی-24) کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے اور کہا ہے کہ وہ ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش مالیاتی چیلنجز کے حل کے لیے رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کو مؤثر انداز میں آگے بڑھائے گا۔ بزنس ریکارڈر کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یہ ذمہ داری ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب متعدد ترقی پذیر ممالک بلند قرضوں، محدود مالی گنجائش، موسمیاتی دباؤ اور عالمی مالیاتی حالات کی غیر یقینی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
جی-24 ترقی پذیر ممالک کا ایک بین الحکومتی فورم ہے جو بین الاقوامی مالیاتی اور ترقیاتی معاملات پر مشترکہ ترجیحات اور پالیسی مؤقف مرتب کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات، ترقیاتی فنانسنگ تک بہتر رسائی اور کمزور معیشتوں کے لیے زیادہ مؤثر نمائندگی جیسے موضوعات اہم رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ منصفانہ اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا ہے۔ اس تناظر میں قرضوں کے بوجھ، سرمایہ کی بلند لاگت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے لیے وسائل کی فراہمی جیسے معاملات بھی اہم ہیں۔ پاکستان خود بھی حالیہ برسوں میں بیرونی مالیاتی دباؤ، قرضوں کی ادائیگی اور موسمیاتی نقصانات کے باعث ان مباحث میں براہ راست دلچسپی رکھنے والا ملک رہا ہے۔
چیئرمین شپ پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ رکن ممالک کے درمیان مشاورت کو منظم کرے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں مشترکہ ترجیحات کو نمایاں کرے۔ تاہم چیئرمین شپ بذات خود کسی مالیاتی فیصلے یا فنڈ کی ضمانت نہیں؛ اس کا بنیادی کردار پالیسی رابطہ، نمائندگی اور مشترکہ مؤقف کی تشکیل ہے۔
پاکستانی حکام کے بیان کردہ اہداف کی عملی پیش رفت آنے والے جی-24 اجلاسوں، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات اور رکن ممالک کی مشترکہ تجاویز سے واضح ہوگی۔ موجودہ اعلان کو اسی سفارتی و مالیاتی پالیسی عمل کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی فوری مالی امداد یا قرض ریلیف کی منظوری۔
