اسلام آباد: پاکستان میں ربیع سیزن کے دوران کھاد کی طلب اور دستیاب رسد کے درمیان دو لاکھ ٹن سے زیادہ ممکنہ فرق سامنے آنے کے بعد زرعی پیداوار، بالخصوص گندم کی بوائی کے لیے بروقت فراہمی پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام اور صنعت کے تخمینوں میں کھاد کے ذخائر، مقامی پیداوار اور موسمی طلب کو سامنے رکھتے ہوئے ممکنہ شارٹ فال کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ربیع سیزن پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے اہم ہے کیونکہ اسی مدت میں گندم سمیت متعدد بڑی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ یوریا اور فاسفیٹ کھادوں کی قیمت یا دستیابی میں خلل کا براہ راست اثر کسانوں کی پیداواری لاگت، کھاد کے بروقت استعمال اور بالآخر فی ایکڑ پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے زرعی حلقے بوائی اور ابتدائی بڑھوتری کے مرحلے میں مسلسل سپلائی کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

ممکنہ کمی کے پس منظر میں مقامی کھاد پلانٹس کو گیس کی فراہمی بھی ایک اہم عامل ہے۔ پاکستان میں یوریا کی بڑی مقدار مقامی طور پر تیار ہوتی ہے اور پیداواری یونٹس کی مسلسل سرگرمی توانائی کی دستیابی سے منسلک ہے۔ اگر کسی پلانٹ کی پیداوار متاثر ہو تو طلب کے عروج کے وقت مارکیٹ میں رسد کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جسے ذخائر یا درآمد کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے۔

درآمد کا فیصلہ بھی عالمی قیمتوں، شپنگ شیڈول، زرمبادلہ کی لاگت اور ملک کے اندر تقسیم کے انتظام سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے صرف درآمدی مقدار کی منظوری کافی نہیں؛ کھاد کو مطلوبہ وقت پر بندرگاہ سے زرعی منڈیوں اور کسانوں تک پہنچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تاخیر کی صورت میں مجموعی سالانہ دستیابی مناسب ہونے کے باوجود مخصوص علاقوں یا ہفتوں میں قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والا دو لاکھ ٹن سے زیادہ کا فرق ایک رسدی تخمینہ ہے، نہ کہ اس بات کی تصدیق کہ اتنی مقدار کی حتمی قلت ہر صورت واقع ہو چکی ہے۔ حکومت مقامی پیداوار، دستیاب اسٹاک، ممکنہ درآمد اور صوبائی تقسیم کے ذریعے فرق کم کر سکتی ہے۔ اسی بنا پر صورتحال کو ممکنہ شارٹ فال کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

کسان تنظیمیں اور صنعت سے وابستہ حلقے عمومی طور پر یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کھاد کی قیمت، دستیابی اور تقسیم کے بارے میں پیشگی واضح پالیسی دی جائے تاکہ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کے امکانات کم ہوں۔ آنے والے ہفتوں میں مقامی پلانٹس کی پیداوار، درآمدی فیصلے اور صوبوں کو مختص مقدار اس بات کا تعین کریں گے کہ ربیع سیزن میں متوقع رسدی دباؤ کس حد تک قابو میں رہتا ہے۔