خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کی رپورٹ، جسے بزنس ریکارڈر اور دیگر پاکستانی خبر رساں اداروں نے نقل کیا، کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں افغان شہری عبیداللہ سعد بھی شامل تھا۔ سکیورٹی ذرائع نے اسے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی ضلع کرم میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات ملنے کے بعد کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے افغان شہری عبیداللہ سعد کے بارے میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبہ لوگر کے شاہ قلعہ گاؤں کا رہائشی تھا اور پاکستان میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ یہ دعوے سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں اور دستیاب رپورٹوں میں کسی آزاد عدالتی یا تفتیشی نتیجے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے مسلح عناصر کے خلاف بلاامتیاز اقدامات جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے۔
کرم افغانستان کی سرحد سے متصل حساس ضلع ہے جہاں گزشتہ برسوں میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ کشیدگی اور سکیورٹی کارروائیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ تازہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی حکام بارہا افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ کابل ماضی میں پاکستانی الزامات کی بعض صورتوں کی تردید کرتا رہا ہے۔
دستیاب معلومات میں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ آپریشن کے مقام، دورانیے اور ہلاک ہونے والے دیگر تین افراد کی شناخت کی مکمل تفصیل بھی جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے رپورٹ میں صرف وہی معلومات شامل کی گئی ہیں جن کی تصدیق سرکاری یا معتبر پاکستانی ذرائع سے ہوئی ہے۔




