لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں 2027 کی بسنت کے لیے دس روزہ شیڈول منظور کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی منظوری کے مطابق تقریبات 29 جنوری سے شروع ہو کر 7 فروری تک جاری رہیں گی، تاہم 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر بسنت کی سرگرمیاں معطل رکھی جائیں گی۔ صوبائی حکومت نے متعلقہ محکموں کو پیشگی انتظامات شروع کرنے اور عوامی حفاظت کو مرکزی ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔
لاہور میں رواں سال فروری میں 18 سال کے وقفے کے بعد بسنت دوبارہ منائی گئی تھی۔ ماضی میں دھاتی یا تیز دھار ڈور، موٹر سائیکل سواروں کے حادثات اور ہوائی فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں اور سنگین زخمیوں کے باعث 2007 میں تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اسی پس منظر میں نئی تقریبات کے لیے حفاظتی قواعد اور ان پر عمل درآمد کو حکومت نے اہم شرط قرار دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ گزشتہ بسنت کے مقابلے میں شہریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں۔ مریم نواز نے شہریوں سے ذمہ داری کے ساتھ تہوار منانے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ محکموں کو تیاری کافی پہلے شروع کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ طویل دورانیے کی تقریبات سے شہری سلامتی متاثر نہ ہو۔
پنجاب حکومت اس سے قبل اگست میں 2027 کی بسنت 12 سے 14 مارچ تک منعقد کرنے کا اعلان کر چکی تھی، لیکن 30 ستمبر کے تازہ فیصلے میں شیڈول تبدیل کر کے 29 جنوری سے 7 فروری کر دیا گیا ہے۔ مئی میں صوبائی حکومت نے آئندہ بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے نئے قواعد و ضوابط کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان قواعد کی عملی نگرانی اور خلاف ورزیوں پر کارروائی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔
حکومت نے بسنت کو پنجاب کی ثقافتی شناخت اور لاہور کی تاریخی روایت کے فروغ سے جوڑا ہے، لیکن ماضی کے حادثات کے باعث حفاظتی انتظامات اس تقریب کے انعقاد کا حساس پہلو رہیں گے۔ منظور شدہ شیڈول کے مطابق دس روزہ دورانیے میں 5 فروری کا وقفہ شامل ہوگا۔ مزید انتظامی تفصیلات، مخصوص مقامات، ٹریفک پلان اور حفاظتی نفاذ سے متعلق ہدایات متعلقہ اداروں کی آئندہ تیاریوں کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔

