لاہور: لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050 میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور بے ضابطہ شہری پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کے لیے بھاری جرمانوں اور فیسوں سمیت سخت اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ منصوبہ لاہور کے ساتھ شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب کو بھی شامل کرتا ہے اور اگلی کئی دہائیوں کے لیے شہری زمین، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی ضروریات کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ماسٹر پلان میں غیر منظور شدہ رہائشی منصوبوں کے خلاف مالی سزاؤں اور ریگولیٹری نفاذ کو مضبوط بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ لاہور ڈویژن میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور رہائشی تعمیرات کے باعث پانی، سیوریج، سڑکوں، ٹرانسپورٹ، ماحول اور سرکاری خدمات پر دباؤ بڑھا ہے، جسے طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں عموماً ایسی زمین پر پلاٹنگ یا فروخت سے متعلق ہوتی ہیں جہاں متعلقہ ترقیاتی اداروں سے مطلوبہ منظوری، زمین کے استعمال میں تبدیلی یا بنیادی سہولیات کے منصوبے مکمل نہ کیے گئے ہوں۔ اس صورتحال میں خریداروں کو ملکیت، ترقیاتی کام اور شہری سہولیات سے متعلق قانونی اور مالی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ماسٹر پلان کا دائرہ صرف جرمانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ڈویژن میں مستقبل کی شہری توسیع، رہائشی و تجارتی زوننگ اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا تعین بھی اس کا حصہ ہے۔ لاہور کے اردگرد آبادی کے پھیلاؤ نے قریبی اضلاع کو عملی طور پر ایک بڑے شہری و معاشی خطے سے جوڑ دیا ہے، جس کے باعث مشترکہ منصوبہ بندی کی ضرورت بڑھی ہے۔
رپورٹ میں پیش کی گئی تجاویز کو حتمی نافذ شدہ قواعد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ماسٹر پلان کے مختلف حصوں کو متعلقہ حکام کی منظوری، قانونی جانچ اور نفاذ کے طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔ جرمانوں یا فیسوں کی حتمی شرح بھی مجاز اداروں کے فیصلوں سے طے ہوگی۔
اگر سخت ضابطہ جاتی نظام نافذ ہوتا ہے تو اس کا مقصد غیر قانونی منصوبوں کی پیشگی روک تھام اور خریداروں کو زیادہ شفاف معلومات فراہم کرنا ہوگا۔ تاہم مؤثر نتائج کے لیے صرف مالی سزائیں کافی نہیں ہوں گی؛ زمین کے ریکارڈ، منظوری کے عمل، عوامی معلومات، نگرانی اور مختلف ضلعی و ترقیاتی اداروں کے درمیان رابطے کو بھی بہتر بنانا ضروری ہوگا۔
