پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے بچوں کی تحویل سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ماں کی دوسری شادی بذات خود اسے نابالغ بچے کی تحویل کے حق سے محروم کرنے کی کافی وجہ نہیں ہے۔ عدالت نے بچے کی تحویل ماں کے پاس برقرار رکھی اور والد کو مقررہ طریقہ کار کے تحت ملاقات کا حق دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں والد نے بچے کی تحویل اپنے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی اور ماں کی دوسری شادی کو اس مطالبے کی ایک بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا۔ عدالت نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا اور بچے کی فلاح و بہبود کو تحویل کے فیصلے میں بنیادی معیار قرار دیا۔

پاکستان میں خاندانی عدالتیں بچوں کی تحویل کے تنازعات میں والدین کے قانونی دعوؤں کے ساتھ بچے کی جسمانی، جذباتی، تعلیمی اور مجموعی بہبود کو دیکھتی ہیں۔ کسی ایک سماجی یا ازدواجی صورتحال کو خودکار طور پر فیصلہ کن قرار دینے کے بجائے ہر مقدمے کے مخصوص حالات اور بچے کے بہترین مفاد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں والد کے لیے ملاقات کے حق کو بھی برقرار رکھا گیا، جس سے تحویل اور والدین کے رابطے کے حقوق کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ بچے کا ایک والد یا والدہ کے ساتھ رہنا دوسرے فریق کے ساتھ مناسب ملاقات اور تعلق کے حق کو لازماً ختم نہیں کرتا، بشرطیکہ عدالت بچے کی فلاح کے مطابق ایسا انتظام مناسب سمجھے۔

اس فیصلے کو ہر خاندانی تنازعے پر خودکار طور پر یکساں نتیجہ لاگو ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تحویل کے مقدمات حقائق پر منحصر ہوتے ہیں اور عدالتیں بچے کی عمر، دیکھ بھال کے انتظامات، رہائش، تعلیم، سلامتی اور والدین کے طرز عمل سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لے سکتی ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ دوسری شادی کو تنہا کسی ماں کی اہلیت یا بچے کی فلاح کے خلاف مفروضہ نہیں بنایا جا سکتا۔ مستقبل کے مقدمات میں بھی بنیادی سوال یہی رہے گا کہ دستیاب حالات میں کون سا انتظام نابالغ کے بہترین مفاد اور محفوظ پرورش کے لیے زیادہ موزوں ہے۔