ستھرا پنجاب لاہور نے صوبائی دارالحکومت میں کچرا پھینکنے اور جلانے کے خلاف ای چالان نظام شروع کر دیا ہے۔ لبرٹی چوک میں آگاہی تقریب کے بعد اینٹی لٹرنگ اسکواڈز کو سڑکوں، بازاروں اور تجارتی علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ صفائی قوانین کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی جا سکے۔

ادارے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں شہریوں کو فوری جرمانے کے بجائے وارننگ اور صفائی قوانین سے متعلق آگاہی دی جائے گی، تاہم بار بار خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔ عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے پر ایک ہزار سے 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

گھر، دکان یا فیکٹری کے باہر صفائی برقرار نہ رکھنے پر جرمانہ ایک ہزار سے 50 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے۔ ممنوعہ پلاسٹک بیگز کے استعمال پر ایک سے دو ہزار روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ کچرا جلانے پر ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ اور دو سال تک قید جبکہ ٹائر جلانے کی بعض خلاف ورزیوں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ اور سات سال تک قید کی گنجائش بتائی گئی ہے۔

کارروائی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اور ستھرا پنجاب اتھارٹی ایکٹ 2026 کے تحت کی جائے گی۔ شفافیت کے لیے جرمانوں کی ادائیگی صرف بینکنگ یا ڈیجیٹل چینلز سے ہوگی اور اہلکاروں کو نقد رقم وصول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

لاہور میں کچرے کا غیر مناسب انتظام نکاسی آب، شہری صحت اور فضائی آلودگی سے بھی جڑا مسئلہ ہے، خصوصاً کچرا جلانے سے دھواں اور زہریلے ذرات پیدا ہوتے ہیں۔ ای چالان نظام کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ قوانین بلا امتیاز نافذ ہوں، شہریوں کو مناسب کوڑا دان اور کلیکشن سہولت دستیاب ہو اور شکایات یا غلط چالان کے لیے واضح اپیل نظام موجود ہو۔