لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے نان نفقے سے متعلق ایک اہم قانونی تنازع میں قرار دیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی ملازم کی پنشن کو فیملی کورٹ کی حتمی ڈگری پر عملدرآمد سے مکمل استثنا حاصل نہیں۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے وضاحت کی کہ بچوں کے اخراجات ادا کرنے کی قانونی ذمہ داری کسی عام تجارتی قرض جیسی نہیں، اس لیے پنشن کے تحفظ سے متعلق بعض قانونی دفعات کو اس طرح نہیں پڑھا جا سکتا کہ بچوں کا تسلیم شدہ حق غیر مؤثر ہو جائے۔
ڈان کی آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس ملک جاوید اقبال وینس پر مشتمل بینچ نے محمد لطیف نامی ریٹائرڈ فوجی اہلکار کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے نتیجے میں بچوں کے نان نفقے کی وصولی کے لیے ان کی پنشن سے متعلق کارروائی جاری تھی۔ مقدمے کے پس منظر میں درخواست گزار کی اہلیہ نے ازدواجی تعلق ختم کرنے اور جہیز کے سامان کی واپسی جبکہ بچوں نے نان نفقہ حاصل کرنے کے لیے مقدمات دائر کیے تھے۔
ان مقدمات کا فیصلہ 2014 میں ہوا اور درخواست گزار کو ہر بچے کے لیے ماہانہ تین ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا، جس میں سالانہ دس فیصد اضافے کی شرط بھی شامل تھی۔ دونوں جانب کی اپیلیں 2015 میں مسترد ہو گئیں، جس کے بعد ڈگری حتمی حیثیت اختیار کر گئی۔ بعد میں جڑانوالہ کی فیملی کورٹ نے عملدرآمد کی کارروائی کے دوران ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور پنشن اکاؤنٹ میں موجود رقوم کو منسلک کرنے کی سمت پیش رفت کی۔ درخواست گزار کی اعتراضات پر مبنی درخواست 2019 میں مسترد ہوئی تو معاملہ ہائیکورٹ پہنچا۔
دو رکنی بینچ نے پنشن ایکٹ کی دفعہ 11 کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ قرض خواہ کی درخواست پر پنشن منسلک کرنے سے متعلق ممانعت بچوں کے نان نفقے کی ڈگری پر اسی انداز میں لاگو نہیں ہوتی۔ عدالت کی تشریح کے مطابق بچے اپنے والد کے معمول کے قرض خواہ نہیں ہوتے بلکہ والدین اور اولاد کے قانونی تعلق سے اخراجات کی ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ فیملی کورٹ کی ڈگری اس پہلے سے موجود ذمہ داری کا تعین اور نفاذ کرتی ہے۔
عدالت نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 171 کا بھی جائزہ لیا اور واضح کیا کہ اس میں زیر خدمت اہلکاروں کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے تحفظ کا ذکر ہے، پنشن کا نہیں۔ بینچ نے فیملی کورٹس کی مخصوص قانونی حیثیت اور بچوں کے نان نفقے کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی۔ عدالت نے درخواست گزار کو مطلوبہ قانونی خامی ثابت کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے درخواست خارج کی اور متعلقہ فیملی کورٹ کو تصدیق شدہ فیصلے کی وصولی کے تیس دن کے اندر عملدرآمد کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
یہ فیصلہ خاص مقدمے اور متعلقہ قانونی تشریح سے متعلق ہے۔ اسے ہر پنشن سے کسی بھی قسم کی وصولی کی عمومی اجازت قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ بنیادی نکتہ بچوں کے نان نفقے کی حتمی عدالتی ڈگری کی تعمیل ہے۔

