بشکیک/لاہور: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے لاہور کو 2026-27 کے لیے تنظیم کا سیاحتی اور ثقافتی دارالحکومت نامزد کر دیا ہے۔ یہ اعلان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے 26ویں اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ نامزدگی کا عرصہ پاکستان کی تنظیمی صدارت کے دور سے منسلک ہے۔
ایس سی او میں سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت کا عنوان 2022 سے رکن ممالک کے شہروں کے درمیان سالانہ بنیاد پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد منتخب شہر کے تاریخی ورثے، ثقافتی تنوع، سیاحتی مقامات اور تخلیقی سرگرمیوں کو تنظیم کے رکن ممالک میں نمایاں کرنا ہے۔ لاہور سے قبل وارانسی، الماتی، چنگ ڈاؤ اور چولپون آتا یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
لاہور کی نامزدگی کا فیصلہ اپریل 2026 میں بشکیک میں ہونے والے ایس سی او رکن ممالک کے سیاحتی اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں کیا گیا تھا، جبکہ سربراہ اجلاس میں اسے باضابطہ طور پر نمایاں کیا گیا۔ پاکستانی صدارت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے رابطہ کاری، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کو مرکزی موضوع قرار دیا ہے۔ اس پس منظر میں لاہور کی نامزدگی کو عوامی سطح کے روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ کے ایک عملی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لاہور میں مغلیہ دور کی عمارات، تاریخی فصیل شہر، عجائب گھر، ادبی روایت، موسیقی، دستکاری اور خوراک کی ثقافت اسے پاکستان کے نمایاں ثقافتی مراکز میں شامل کرتی ہے۔ تاہم اعزاز کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت، بلدیاتی ادارے اور سیاحتی شعبہ مشترکہ کیلنڈر، بین الاقوامی تقریبات، سہولت کاری، شہری صفائی، ٹریفک انتظام اور ورثہ مقامات کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
نامزدگی بذاتِ خود کسی مخصوص مالی پیکیج یا سیاحوں کی یقینی تعداد کا اعلان نہیں ہے۔ دستیاب رپورٹس میں کسی علیحدہ بجٹ، منصوبہ وار اخراجات یا تقریبات کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے ممکنہ معاشی فائدے، ہوٹل اور سفری صنعت پر اثر اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا درست اندازہ پروگرام کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
ایس سی او کا یہ عنوان لاہور کو رکن ممالک کے سامنے ایک سال تک منظم انداز میں پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ حکام کے لیے اگلا مرحلہ نامزدگی کو ثقافتی سفارت کاری، محفوظ سیاحت، مقامی کاروبار کی شمولیت اور تاریخی ورثے کے پائیدار تحفظ سے جوڑنا ہوگا، تاکہ اعزاز محض علامتی اعلان تک محدود نہ رہے۔




