لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ٹاؤن پلاننگ ونگ نے شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کمرشل استعمال اور کمرشلائزیشن فیس کی عدم ادائیگی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 46 جائیدادیں سیل کر دی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کارروائی ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل طاہر فاروق کی ہدایت پر جاری کریک ڈاؤن کے تحت کی گئی۔

ایل ڈی اے ٹیموں نے نیو مسلم ٹاؤن، نیو گارڈن ٹاؤن، مصطفی ٹاؤن، ڈیفنس روڈ اور ملتان روڈ کے مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ سرکاری تفصیل کے مطابق نیو مسلم ٹاؤن کے اے اور بی بلاکس میں 13 جبکہ نیو گارڈن ٹاؤن میں 10 جائیدادیں غیر مجاز کمرشل استعمال پر سیل کی گئیں۔ ڈیفنس روڈ اور ملتان روڈ کے ساتھ، ٹھوکر نیاز بیگ سے مانگا تک مختلف مقامات پر مزید 13 جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

مصطفی ٹاؤن میں الگ ریکوری آپریشن کے دوران 10 جائیدادیں کمرشلائزیشن واجبات سے متعلق کارروائی میں سیل کی گئیں۔ ایل ڈی اے کے مطابق متاثرہ مقامات میں بینک، اسکول، ریسٹورنٹس، شاپنگ مقامات، شو رومز، اسٹیل اور ماربل سے متعلق کاروبار، ہارڈویئر اسٹورز، فوڈ آؤٹ لیٹس، آٹو ورکشاپس، دکانیں اور دفاتر شامل تھے۔

کارروائی چیف ٹاؤن پلانر ون اسد الزمان کی نگرانی میں کی گئی۔ ایل ڈی اے کا مؤقف ہے کہ رہائشی یا دیگر مخصوص استعمال کے لیے منظور شدہ جائیدادوں کو قواعد کے خلاف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور واجب الادا کمرشلائزیشن فیس ادا نہ کرنے کے خلاف نفاذ جاری رکھا جائے گا۔

سیلنگ ایک انتظامی کارروائی ہے اور ہر جائیداد کے مالک یا قابض کے قانونی حقوق، واجبات اور ممکنہ اپیل یا ریگولرائزیشن کا فیصلہ متعلقہ ریکارڈ اور قواعد کے مطابق الگ ہوگا۔ سرکاری رپورٹ میں کسی مالک کے خلاف فوجداری جرم ثابت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ کارروائی کا فوری نتیجہ 46 مقامات کی سیلنگ ہے، جبکہ آئندہ ڈی سیلنگ یا مزید قانونی قدم متعلقہ شرائط پوری ہونے اور ایل ڈی اے کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔