لبنان میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک گاڑی سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کرکے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ میں ایک عدالتی ذریعے نے بتایا کہ گرفتاری مشرقی لبنان میں دہر البیدر کی ایک چیک پوسٹ پر جمعرات کو اس وقت ہوئی جب گاڑی بیروت کی جانب جارہی تھی۔

عدالتی ذریعے کے مطابق گاڑی کی تلاشی سے تقریباً 250 کلوگرام ٹی این ٹی نوعیت کا مواد اور اتنی ہی مقدار میں سی فور قسم کا دھماکا خیز مادہ برآمد ہوا۔ اس طرح ضبط کی گئی مقدار مجموعی طور پر تقریباً نصف ٹن بنتی ہے۔ ذریعے نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں ایک زیرحراست شخص کے حزب اللہ کے ایک عہدیدار کا بیٹا ہونے اور دوسرے کے بھی تنظیم سے وابستہ ہونے کا اشارہ ملا ہے۔ تاہم گرفتار افراد کے خلاف الزام کی نوعیت اور مواد کی منزل کے بارے میں حتمی نتائج سامنے نہیں آئے۔

رپورٹ کے مطابق لبنانی حکام نے عدالتی ذریعے کی فراہم کردہ تمام تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ اسی لیے زیرحراست افراد کی مبینہ تنظیمی وابستگی کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ عدالتی تحقیقات کے ذریعے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ اتنی مقدار میں دھماکا خیز مواد کہاں لے جایا جارہا تھا، اس کا مقصد کیا تھا اور کسی دوسرے شخص یا گروہ کا معاملے سے تعلق بنتا ہے یا نہیں۔

لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ برآمد شدہ دھماکا خیز مواد کے بارے میں تفتیش انجام تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی مسلح گروہوں کو غیرمسلح کرنے، دہشت گردی کی روک تھام اور قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی کوششیں جاری رہیں گی۔ یہ وزیر کا اعلان ہے، عدالت کی جانب سے کسی ملزم کی مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ نہیں۔

لبنان میں اس واقعے کا پس منظر پیچیدہ علاقائی سلامتی کی صورتحال ہے۔ ملک نے 2025 میں حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا منصوبہ منظور کیا تھا۔ اس سے پہلے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی، تاہم 2026 میں خطے میں کشیدگی پھر بڑھی۔ بعد ازاں لبنان اور اسرائیل کے درمیان نئے انتظامات اور لبنانی فوج کی تعیناتی سے متعلق فریم ورک پر بات ہوئی۔

دھماکا خیز مواد کی یہ برآمدگی ان انتظامات کے لیے ایک نیا تفتیشی معاملہ ہے۔ دستیاب معلومات گرفتاری اور عدالتی ذریعے کے بیان تک محدود ہیں؛ اس مرحلے پر نہ مبینہ منصوبے کی منزل معلوم ہے نہ کسی عدالت نے زیرحراست افراد کے خلاف حتمی فیصلہ سنایا ہے۔