لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوہر خلع کے عوض نکاح نامے میں درج ایسے طلائی زیورات واپس لینے کا حق دار نہیں جن کی قیمت اس نے اپنے وسائل سے ادا نہ کی ہو۔ ڈان کے مطابق جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے ازدواجی تنازع سے متعلق چار باہم منسلک درخواستیں نمٹاتے ہوئے یہ فیصلہ دیا۔ مقدمے میں سونا، نان و نفقہ، جہیز اور مکان کی ملکیت سمیت متعدد امور زیرِ سماعت تھے۔
فریقین کی شادی 2012 میں خلع کے ذریعے ختم ہوئی۔ ابتدائی مرحلے میں فیملی کورٹ نے خلع کے بدلے وصول شدہ حق مہر کی واپسی کا اصول تسلیم کیا، جبکہ نان و نفقہ، جہیز، زیورات اور زچگی کے اخراجات کے دعوے الگ زیرِ التوا رہے۔ 2018 میں فیملی کورٹ نے جزوی ڈگری دیتے ہوئے نان و نفقہ اور جہیز کی بعض اشیا کی واپسی کا حکم دیا، اور بیوی کو 11 تولے سونا یا اس کی مالیت شوہر کو واپس کرنے کی ہدایت بھی کی۔ 2020 میں اپیلٹ عدالت نے بیشتر نتائج برقرار رکھے۔
ہائیکورٹ نے نان و نفقہ سے متعلق ماتحت عدالتوں کے مشترکہ نتائج برقرار رکھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر نے مکمل تنخواہی ریکارڈ پیش نہیں کیا اور صرف بنیادی تنخواہ کا سرٹیفکیٹ دیا، اس لیے عدالتیں اس کی حقیقی آمدن کے بارے میں اس کے خلاف نتیجہ اخذ کر سکتی تھیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مالی استطاعت رکھنے والا والد اپنے وسائل کم ظاہر کر کے بچے کے اخراجات کی ذمہ داری کم نہیں کر سکتا۔
ازدواجی مکان کے معاملے میں عدالت نے اس نتیجے کو برقرار رکھا کہ بیوی کے والد نے بیرونِ ملک ملازمت کے دوران بینکنگ ذرائع سے پوری قیمت ادا کی تھی۔ بینک حکام کی گواہی اور لین دین کے دستاویزی سلسلے کی بنیاد پر عدالت نے کہا کہ نکاح نامے میں مکان درج ہونے کے باوجود شوہر نے اسے اپنے پیسے سے نہیں خریدا، اس لیے وہ اسے خلع کے بدل کے طور پر واپس نہیں لے سکتا۔ بیوی کی جانب سے بعد میں مکان اپنے والد کو منتقل کرنے اور انہیں قبضہ دینے کی ڈگری بھی برقرار رہی۔
11 تولے سونے کے بارے میں ہائیکورٹ نے کہا کہ ماتحت عدالتوں نے صرف دستاویزی ثبوت کی کمی کو فیصلہ کن سمجھ کر دیگر معاون حالات کو نظر انداز کیا۔ شوہر کی ثابت شدہ مالی حالت کے پیشِ نظر عدالت نے زیادہ قرینِ قیاس سمجھا کہ یہ سونا بھی بیوی کے والد نے خریدا تھا۔ اسی بنیاد پر شوہر کو زیورات کی واپسی کا حق دار نہیں مانا گیا، کیونکہ وہ حق مہر اس کے اپنے وسائل سے ادا شدہ ثابت نہیں ہوا تھا۔
فیصلہ ہر خلع مقدمے میں تمام سونا لازماً بیوی کے پاس رہنے کا عمومی اعلان نہیں۔ اس کی قانونی بنیاد مخصوص شواہد، حقیقی مالی ادائیگی اور زیرِ سماعت اشیا کی ملکیت ہے۔ عدالت نے 22 تولے جہیزی سونے سے متعلق بیوی کا الگ دعویٰ برقرار نہیں رکھا اور زچگی اخراجات کے 63 ہزار روپے کے دعوے کی برخاستگی بھی برقرار رکھی۔ یوں حکم مختلف دعووں کو الگ شواہد پر پرکھنے کی مثال ہے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




