لاہور ہائیکورٹ نے ایک ازدواجی تنازع سے متعلق فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شوہر ایسی سونے کی اشیا کو خلع کے عوض واپس لینے کا حق دار نہیں جنہیں نکاح نامے میں حق مہر کا حصہ تو بنایا گیا ہو لیکن جن کی مالی ادائیگی شوہر نے خود نہ کی ہو۔ جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان تنازع سے پیدا ہونے والی چار متعلقہ درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے یہ اصول واضح کیا۔

مقدمے میں فریقین نے مظفرگڑھ کی سیشن عدالت کے مختلف نتائج کو چیلنج کیا تھا۔ تنازع میں حق مہر، نان و نفقہ، جہیز، سونے کے زیورات اور ایک مکان کی ملکیت سمیت متعدد معاملات شامل تھے۔ شادی 2012 میں خلع کے ذریعے ختم ہوئی تھی اور خاندانی عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا تھا کہ بیوی کو وصول شدہ حق مہر بدلِ خلع کے طور پر واپس کرنا ہوگا، جبکہ دیگر مالی اور ملکیتی دعوے الگ زیر غور رہے۔

ہائی کورٹ نے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو اہم قرار دیا کہ کسی چیز کا نکاح نامے میں حق مہر کے طور پر درج ہونا بذات خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کی قیمت شوہر نے ادا کی تھی۔ فیصلے کے مطابق زیر تنازع مکان کے لیے مالی وسائل بیوی کے والد کی جانب سے فراہم کیے جانے کے شواہد موجود تھے۔ بینک حکام نے متعلقہ مالی لین دین کی تصدیق کی اور ان کی گواہی کو جرح کے دوران مؤثر طور پر متنازع نہیں بنایا گیا۔

عدالت نے اسی اصول کو 11 تولے سونے کے دعوے پر بھی لاگو کیا۔ جسٹس راحیل کامران نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے صرف دستاویزی ثبوت کی عدم موجودگی کو فیصلہ کن سمجھ کر دیگر تائیدی حالات کو مناسب وزن نہیں دیا۔ شوہر کی ثابت شدہ مالی حالت اور مقدمے کے مجموعی شواہد کی بنیاد پر عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ سونے کی مالی اعانت بھی بیوی کے والد کی جانب سے کیے جانے کا امکان زیادہ تھا، لہٰذا شوہر اسے بدلِ خلع کے طور پر واپس لینے کا حق دار نہیں۔

البتہ عدالت نے بیوی کے 22 تولے جہیزی سونے سے متعلق دعوے پر ماتحت عدالتوں کے نتائج برقرار رکھے۔ فیصلے میں اس دعوے سے متعلق بیانات میں تضاد اور بعض شواہد پیش نہ کرنے کو اہم سمجھا گیا۔ اسی طرح زچگی اور ڈیلیوری اخراجات کے 63 ہزار روپے کے دعوے کی عدم منظوری بھی برقرار رہی۔ یہ فیصلہ مخصوص مقدمے کے شواہد پر مبنی ہے، تاہم حق مہر سے متعلق تنازعات میں اصل مالی ادائیگی اور ملکیت کے ثبوت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔