لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی رہائی کے لیے دائر درخواست اس وقت نمٹا دی جب پنجاب حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی حفاظتی حراست میں مزید 30 روز کی توسیع کی جا چکی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ابہر گل خان کے روبرو پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر صوبائی حکومت نے تینوں خواتین کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع منظور کی۔ سرکاری وکیل نے ہوم سیکرٹری کی جانب سے رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ حراست کی مدت میں توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی تھی۔

علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب تحریک انصاف اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ ابتدائی طور پر ان کی حراست 30 روز کے لیے تھی۔ رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ اور نورین کو اگلے روز حراست میں لیا گیا تھا۔

درخواست علیمہ خان کے بیٹے شہریز نے دائر کی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ابتدائی حراستی احکامات کی مدت ختم ہونے کے باوجود تینوں خواتین کو کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا اور یہ مسلسل حراست قانونی جواز سے محروم ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ خواتین کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں اور حفاظتی حراست کو عام فوجداری قانون کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نکات درخواست گزار کے قانونی دعوے تھے، جن پر اس سماعت میں حتمی عدالتی فیصلہ نہیں دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت سے تینوں خواتین کی بازیابی اور عدالت میں پیشی کا حکم دینے کی استدعا کی۔ تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ حراست کے نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیے تھے مگر درخواست میں متعلقہ افسر کو فریق نہیں بنایا گیا۔ جسٹس ابہر گل خان نے قرار دیا کہ عدالت درخواست کے موجودہ دائرہ کار سے باہر حکم جاری نہیں کر سکتی۔

اس کے بعد عدالت نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔ اس عدالتی کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ حفاظتی حراست کی قانونی حیثیت کے تمام ممکنہ سوالات پر حتمی فیصلہ ہو گیا ہے؛ دستیاب رپورٹ کے مطابق موجودہ درخواست اسی شکل میں نمٹائی گئی کیونکہ حکومت نے توسیعی حکم سے آگاہ کیا اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر درخواست میں فریق نہیں تھے۔