لاہور: جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ تین ستمبر کی تاریخ والے استعفیٰ نامے کو صدر مملکت آصف علی زرداری کے نام آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت بھیجا گیا، جبکہ اس کی ایک نقل لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو بھی فراہم کی گئی۔ خط میں انہوں نے کہا کہ وہ قانونی اسکالرشپ، پالیسی تحقیق اور تقابلی عدالتی عمل میں وسیع تر پیشہ ورانہ سرگرمی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

استعفیٰ نامے کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے عدالت میں خدمات کو اپنے پیشہ ورانہ سفر کا اہم اور اطمینان بخش دور قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ طویل غور کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک قانون دان کی حیثیت سے مزید ترقی اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی کے لیے ان کی ممکنہ خدمات عدالت سے باہر تحقیق اور پالیسی کے میدان میں بہتر طور پر جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے سینئر ساتھی ججوں کی رہنمائی اور عدالتی عملے کی معاونت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

خط میں کسی شکایت، دباؤ، زیر التوا تادیبی کارروائی یا مخصوص عدالتی تنازع کو استعفے کی وجہ نہیں بتایا گیا۔ اس لیے ان کے فیصلے کو کسی غیر بیان شدہ سیاسی یا ادارہ جاتی مقصد سے جوڑنا دستیاب دستاویزی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔ رپورٹ شدہ سرکاری دستاویز میں بنیادی وجہ ان کی مستقبل کی علمی، تحقیقی اور تقابلی قانونی سرگرمیاں ہیں۔

جسٹس راحیل کامران شیخ سات مئی 2021 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے اور معمول کے عدالتی دورانیے کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ جنوری 2036 میں متوقع تھی۔ استعفے کے فوری اثر سے ان کی عدالتی مدت مقررہ ریٹائرمنٹ سے تقریباً ایک دہائی پہلے ختم ہو گئی۔ وہ لندن اسکول آف اکنامکس سے قانون کی تعلیم یافتہ اور مڈل ٹیمپل کے بیرسٹر ہیں۔

عدلیہ میں آنے سے پہلے وہ وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے، ستمبر 2012 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے اور 2016 سے 2020 تک پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران وہ بار کونسل کی انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی اور مجلس عاملہ کی رکنیت بھی سنبھال چکے تھے۔ ان کی قانونی پریکٹس میں آئینی و عوامی قانون، تجارتی و ٹیکس معاملات، ضابطہ جاتی امور، انسانی حقوق اور مالی جرائم سے متعلق مقدمات شامل رہے۔

آئین کا آرٹیکل 206 سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کو صدر کے نام تحریری استعفیٰ دینے کی اجازت دیتا ہے۔ جسٹس راحیل کامران شیخ کے خط میں عہدہ چھوڑنے کو فوری مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ آئندہ عدالتی انتظام، خالی اسامی اور اس پر تقرری کا عمل متعلقہ آئینی و ادارہ جاتی طریقۂ کار کے مطابق الگ طور پر طے ہوگا؛ استعفیٰ نامہ خود کسی جانشین کی نامزدگی نہیں کرتا۔