پاکستان میں ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کی مجوزہ نئی قیمت پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے نجی شعبے کے تحفظات دور نہ کیے تو کاروبار بند کیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایل پی جی کی قلت اور کھلی منڈی میں سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمتوں کی شکایات پہلے ہی موجود ہیں۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر کے مطابق مجوزہ پالیسی میں نجی شعبے سے مؤثر مشاورت نہیں کی گئی۔ تنظیم نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو بھی خط لکھ کر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور ایل پی جی شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مارکیٹرز کا مؤقف ہے کہ درآمدات میں نجی شعبہ اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسے پالیسی سازی سے الگ کرنے سے سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے؛ حکومت کی جانب سے اس دعوے کی مکمل توثیق سامنے نہیں آئی۔
اسی دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری صارف قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ نئی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر ہوئی، جبکہ 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت بڑھ کر تقریباً 3,470 روپے ہو گئی۔ اوگرا کے مطابق قیمت میں تبدیلی سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اوسط شرح سے منسلک فارمولے کے تحت ہوئی۔
مارکیٹ کی صورت حال سرکاری نرخ سے مختلف بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر ایل پی جی 600 روپے فی کلو یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی شکایات ہیں، جبکہ کمپنی فرنچائزز پر بھی سرکاری نرخ سے زائد وصولی دیکھی گئی ہے۔ صنعت سے وابستہ نمائندے موجودہ قلت کو علاقائی سپلائی میں رکاوٹ اور ایران کی سرحد بند ہونے سے جوڑ رہے ہیں۔
ایل پی جی پاکستان کے ان علاقوں اور گھرانوں کے لیے اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں۔ سردیوں سے قبل قیمتوں اور سپلائی پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں گھریلو صارفین، چھوٹے کاروبار اور ٹرانسپورٹ شعبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ 16 نومبر کی اعلان کردہ ہڑتال سے پہلے حکومت اور صنعت کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ اس بات کا تعین کرے گا کہ سپلائی چین میں مزید خلل آتا ہے یا تنازع کسی پالیسی مفاہمت کے ذریعے حل ہو جاتا ہے۔

