اسلام آباد: ملک کے مختلف حصوں میں مائع پیٹرولیم گیس کی قلت کے باعث خوردہ قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور بعض مارکیٹوں میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس سطح پر 11.8 کلو گرام کا گھریلو سلنڈر تقریباً 7,200 روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو حالیہ مہینوں کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
مارکیٹ ذرائع اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کے مطابق رسد میں کمی، درآمدی لاگت اور تقسیم کے مسائل نے قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ایل پی جی ایسے گھرانوں، چھوٹے کاروباروں اور دور دراز علاقوں کے لیے اہم ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے، اس لیے قیمت میں تیز اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ اور کاروباری اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گھریلو سلنڈر کی قیمت کچھ عرصہ پہلے تقریباً 3,350 روپے کی سطح پر تھی، مگر قلت کے دوران مارکیٹ میں دوگنے سے زیادہ نرخ سامنے آئے ہیں۔ تاہم ملک بھر میں ایک ہی قیمت لاگو نہیں ہوتی اور شہر، دستیابی، ڈیلر مارجن اور ترسیلی لاگت کے باعث نرخ مختلف ہو سکتے ہیں۔ 600 روپے فی کلو کو ہر مقام کی یکساں سرکاری قیمت کے بجائے بعض مارکیٹوں میں رپورٹ ہونے والی بلند خوردہ سطح سمجھا جانا چاہیے۔
اوگرا ہر ماہ ایل پی جی کی پروڈیوسر اور صارف قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے، لیکن عملی مارکیٹ میں قلت کے ادوار میں مقررہ نرخ اور خوردہ فروخت کے درمیان فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ صنعت کے نمائندے رسد معمول پر لانے، ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی منافع خوری کے خلاف کارروائی اور درآمدی و مقامی سپلائی کے تسلسل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کے وسیع تر دباؤ میں بھی اہم ہے کیونکہ یہ کھانا پکانے، تجارتی کچن، چھوٹی صنعت اور بعض ٹرانسپورٹ استعمالات میں کام آتی ہے۔ اگر بلند قیمتیں برقرار رہیں تو ان کا اثر اشیائے خورونوش اور خدمات کی لاگت تک منتقل ہو سکتا ہے۔
حکومت اور ریگولیٹر کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ حقیقی رسد کی کمی، ترسیلی رکاوٹ اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے اثرات الگ الگ شناخت کیے جائیں۔ صارفین کے لیے حتمی قابل اطلاق قیمت مقامی مجاز ڈیلر اور تازہ اوگرا نوٹیفکیشن سے جانچنا ضروری ہے، کیونکہ غیررسمی مارکیٹ کے نرخ تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

