کراچی: سندھ میں لندالی-1 کنویں سے گیس کی پیداوار شروع ہو گئی ہے اور پیدا ہونے والی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو فراہم کی جا رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر نے 9 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ یہ کنواں او جی ڈی سی ایل اور ماری سے منسلک منصوبے کا حصہ ہے اور پیداوار کا آغاز ملکی گیس سپلائی میں مقامی وسائل کے اضافے کی ایک نئی پیش رفت ہے۔
پاکستان میں مقامی گیس کی پیداوار توانائی کے شعبے کے لیے اہم ہے کیونکہ گھریلو صارفین، صنعت، بجلی کی پیداوار اور کھاد سازی سمیت متعدد شعبے قدرتی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔ نئے کنویں سے تجارتی پیداوار شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دریافت یا ترقیاتی مرحلے سے گزرنے والا ذخیرہ اب ترسیلی نظام کو عملی سپلائی دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لندالی-1 سے حاصل ہونے والی گیس سوئی سدرن کے نیٹ ورک میں دی جا رہی ہے، جو سندھ اور بلوچستان میں گیس کی ترسیل اور تقسیم کا بڑا ادارہ ہے۔ کسی نئے کنویں کی پیداوار قومی یا علاقائی گیس کی مجموعی ضرورت کا مکمل متبادل نہیں ہوتی، تاہم مقامی پیداوار میں ہر اضافی مقدار درآمدی توانائی پر دباؤ کم کرنے اور موجودہ سپلائی کو سہارا دینے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل اور ماری پاکستان کے اپ اسٹریم تیل و گیس شعبے کے اہم اداروں میں شمار ہوتے ہیں اور مختلف بلاکس میں تلاش، کھدائی اور پیداوار کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ لندالی-1 سے پیداوار کا آغاز اس عمل کا عملی نتیجہ ہے جس میں کنویں کی جانچ، پیداواری سہولت اور گیس کو متعلقہ پائپ لائن نظام سے منسلک کرنا شامل ہوتا ہے۔
تازہ پیش رفت کی اہمیت ایسے وقت میں بڑھ جاتی ہے جب پاکستان توانائی کی مقامی پیداوار بڑھانے اور درآمدی ایندھن کے اخراجات محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کنویں کی مستقبل کی پیداوار اور اس کے مجموعی اثر کا تعین مسلسل پیداواری کارکردگی، ذخیرے کے دباؤ اور آپریشنل نتائج سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ لندالی-1 سے گیس کی پیداوار شروع ہو چکی ہے اور سپلائی سوئی سدرن کے نظام کو دی جا رہی ہے۔




