اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل (سی)، میجر جنرل فیصل نصیر، کا تبادلہ کرکے انہیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے۔ ڈان نے سرکاری فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی جمعہ 4 ستمبر کو سامنے آئی۔ حکومت نے تقرری کی تفصیلی وجہ، عہدہ سنبھالنے کی تاریخ یا آئی ایس آئی میں ان کے جانشین کا نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیا۔

ڈان کے مطابق ڈی جی (سی) کے عہدے کو بعض اوقات غلط طور پر آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کی سربراہی کہا جاتا ہے، جبکہ یہ منصب دراصل ادارے کے داخلی ونگ کی قیادت کرتا ہے۔ یہ شعبہ ملک کے اندر سلامتی اور متعلقہ معاملات سے نمٹتا ہے اور ذمہ داری کی نوعیت کے باعث ریاست کے اہم فیصلہ ساز مراکز سے رابطے میں رہتا ہے۔ رپورٹ میں اس عہدے کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے بعد ادارے کے انتہائی اہم مناصب میں شمار کیا گیا ہے۔

میجر جنرل فیصل نصیر 2022 سے ڈی جی (سی) کی ذمہ داری انجام دے رہے تھے، جب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دیے جانے کے کچھ عرصے بعد یہ منصب سونپا گیا۔ ان کی تعیناتی ملک کے ایک سیاسی طور پر کشیدہ دور پر محیط رہی۔ تازہ تبادلے سے متعلق کسی سرکاری نوٹیفکیشن کی مکمل شرائط یا مدت زیرِ جائزہ رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے تقرری سے فوجی ترقی یا آئندہ عہدوں کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔

نیکٹا 2009 میں قائم کی گئی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی ایکٹ 2013 کے ذریعے اسے قانونی بنیاد ملی۔ ادارے کا بنیادی مقصد وفاقی و صوبائی حکومتوں، پولیس، انٹیلی جنس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہاپسندی کی پالیسی کو مربوط کرنا، خطرات کا جائزہ لینا اور قومی سطح کی حکمت عملی تیار کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

قانونی تصور کے باوجود نیکٹا طویل عرصے سے محدود عملی اختیار، وسائل کی کمی اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ڈان کے مطابق اتھارٹی عملاً ایک طاقتور مرکزی کمانڈ ادارہ بننے کے بجائے زیادہ تر پالیسی سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتی رہی اور قیام کے بعد اس کے سربراہ بار بار تبدیل ہوئے۔ گزشتہ نیشنل کوآرڈینیٹرز میں اکثریت پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کی رہی، اس لیے حاضر سروس فوجی افسر کی تقرری معمول کے طریقے سے مختلف سمجھی جا رہی ہے۔

اس تبدیلی کے ممکنہ اثرات کا اندازہ نیکٹا کے آئندہ فیصلوں، ادارہ جاتی وسائل، وفاقی و صوبائی رابطہ کاری اور قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے نفاذ سے ہوگا۔ صرف تقرری کو ادارے کے کردار میں یقینی توسیع سمجھنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ نیکٹا کی عملی قوت اس کے قانونی اختیار، بجٹ، معلومات کے تبادلے اور شریک اداروں کے تعاون پر منحصر ہے۔

میجر جنرل فیصل نصیر کی نئی ذمہ داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کے دباؤ سے دوچار ہے۔ نیشنل کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے ان کا باقاعدہ مینڈیٹ، ترجیحات اور ادارہ جاتی اصلاحات حکومت یا نیکٹا کی آئندہ سرکاری وضاحتوں سے زیادہ واضح ہوں گی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ان کا تبادلہ اور نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے منصب پر تقرر ہے۔