پاکستان کی مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر ملیحہ علی نے جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں جاری انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (آئی ایم ایم اے ایف) ورلڈ چیمپئن شپ میں روس کی ویرونیکا ڈروزڈووا کو شکست دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ مقابلہ 3 نومبر کو ہوا، جس میں پاکستانی فائٹر نے ابتدائی دو راؤنڈز میں مضبوط کیج کنٹرول اور گراؤنڈ اسٹرائیکس کے ذریعے برتری قائم کی۔
ڈروزڈووا دو مرتبہ کی یورپی چیمپئن ہیں اور مقابلے سے پہلے انہیں اپنی ویٹ کیٹیگری کی مضبوط حریفوں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ ملیحہ نے پہلے دو راؤنڈز میں مقابلے کی رفتار اپنے حق میں رکھی اور آخری مرحلے میں روسی فائٹر کی واپسی کی کوشش اور ٹیک ڈاؤن دباؤ کا مقابلہ کیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستانی فائٹر نے مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ اپنے نام کیا۔
ملیحہ علی کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے ہے اور وہ پاکستان میں تیزی سے ابھرتے ہوئے مکسڈ مارشل آرٹس منظرنامے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ عالمی چیمپئن شپ میں روسی حریف کے خلاف یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ روس ایک بڑے اور تجربہ کار دستے کے ساتھ ایونٹ میں شریک ہے اور بین الاقوامی ایم ایم اے مقابلوں میں اس کے کھلاڑی مضبوط پس منظر رکھتے ہیں۔
آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ شوقیہ مکسڈ مارشل آرٹس کے اہم عالمی مقابلوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں مختلف ممالک کے فائٹرز متعدد وزن کی کیٹیگریز میں حصہ لیتے ہیں۔ اس سطح پر کامیابی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ فراہم کرتی ہے اور مستقبل میں اعلیٰ سطح کے مقابلوں تک رسائی کے امکانات بڑھاتی ہے۔ پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں ایم ایم اے کی مقبولیت اور منظم تربیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ملیحہ کی فتح کو پاکستانی ایم ایم اے کے لیے حوصلہ افزا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ٹورنامنٹ میں ان کی مجموعی پوزیشن کا انحصار آئندہ مقابلوں کے نتائج پر ہوگا۔ ایک مقابلے میں فتح کو عالمی ٹائٹل جیتنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا؛ موجودہ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ انہوں نے عالمی چیمپئن شپ کے اپنے اہم مقابلے میں ڈروزڈووا کو شکست دی ہے۔
پاکستانی فائٹر کی اس کارکردگی نے خواتین کے مکسڈ مارشل آرٹس میں ملک کی نمائندگی کو بھی نمایاں کیا ہے۔ محدود وسائل اور نسبتاً نئی مقامی ایم ایم اے ساخت کے باوجود بین الاقوامی سطح پر مضبوط حریف کے خلاف کامیابی پاکستانی کھلاڑیوں کی مسابقتی صلاحیت کی مثال ہے۔ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں ملیحہ کی کارکردگی اس کامیابی کی اہمیت کو مزید متعین کرے گی۔

