اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں سے متعلق مختلف سرکاری اور تجارتی خدمات ایک ہی مقام پر مہیا کرنے کے مقصد سے میری ٹائم بزنس فسیلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ تجویز بندرگاہی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں سامنے آئی۔

وزیر بحری امور کے مطابق مجوزہ مرکز میں متعلقہ اداروں کے نمائندے ایک جگہ موجود ہوں گے تاکہ کاروباری افراد کو مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ ہر شریک ادارے کی جانب سے ایک فوکل پرسن مقرر کرنے اور مرکزی دفاتر سے منسلک مربوط نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے درخواستوں اور کیسز کی کارروائی اور پیش رفت کو ٹریک کیا جا سکے گا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ بندرگاہی عمل میں تاخیر سے ٹرکنگ، کنٹینرز، اسٹوریج، ڈیمرج، جہازوں کے انتظار اور انتظامی کارروائیوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ مجوزہ سہولت مرکز کا مقصد ان مراحل کو آسان بنا کر کاروباری اخراجات اور وقت میں کمی لانا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے خاص طور پر ایسے نئے کاروباری افراد کو فائدہ ہو سکتا ہے جو پہلی بار بندرگاہی خدمات استعمال کر رہے ہوں۔

وفاقی وزیر نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ طریقہ کار کو معیاری بنانے سے فیسوں کی وصولی بہتر، ممکنہ لیکیج کم اور تجارتی حجم بڑھنے کی صورت میں بندرگاہی خدمات، کارگو ہینڈلنگ، کسٹمز سے متعلق سرگرمیوں اور لاجسٹکس سے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ فوائد فی الحال حکومتی تجویز کے متوقع نتائج ہیں؛ مرکز ابھی حتمی طور پر قائم نہیں ہوا اور اس کی عملی ساخت پر مشاورت باقی ہے۔

وزارت بحری امور نے متعلقہ سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مشاورت میں وزارت بحری امور، کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، گوادر پورٹ، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور کورنگی فش ہاربر کے حکام کے علاوہ بینکوں، شپنگ لائنز، کلیئرنگ و فارورڈنگ ایجنٹس، ماہی گیری کی انجمنوں اور دیگر نجی شعبے کے نمائندوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

وزیر نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کر کے ان کی سفارشات مجوزہ مرکز کے ڈھانچے اور آپریشنز میں شامل کی جائیں۔ موجودہ مرحلے میں یہ ایک پالیسی تجویز ہے، نہ کہ مکمل شدہ منصوبہ؛ اس کے مقام، بجٹ، آغاز کی تاریخ اور قانونی یا انتظامی فریم ورک کی حتمی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔