اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کے لیے داخلے سے پہلے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پاس کرنے کی شرط ختم کرنے کی وضاحت جاری کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد غیر ملکی میڈیکل یا ڈینٹل اداروں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کو پیشگی لازمی شرط کے طور پر پورا کرنا ضروری نہیں رہے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی طلبہ جو بیرون ملک میڈیکل یا ڈینٹل اداروں میں داخلہ چاہتے ہیں، ان پر یہ مخصوص پیشگی شرط لاگو نہیں ہوگی۔ اس تبدیلی سے ایسے طلبہ کے داخلہ عمل میں ایک مرحلہ کم ہو جائے گا جو پاکستان سے باہر تعلیم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
یہ وضاحت صرف بیرون ملک اداروں میں داخلے سے پہلے ایم ڈی کیٹ کی شرط سے متعلق ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ غیر ملکی میڈیکل ڈگری رکھنے والے طلبہ کے لیے پاکستان میں بعد کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، ادارے کی منظوری، تعلیمی معیار یا دیگر ضابطہ جاتی تقاضے بھی خود بخود ختم ہو گئے ہیں۔ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرون ملک کسی ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے پی ایم ڈی سی کے متعلقہ قواعد اور تسلیم شدہ اداروں سے متعلق تازہ ہدایات الگ سے دیکھیں۔
پاکستان سے ہر سال طلبہ کی ایک تعداد میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے لیے بیرون ملک جاتی ہے، اس لیے داخلے کی شرائط میں تبدیلی براہ راست طلبہ اور ان کے خاندانوں کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پیشگی ٹیسٹ کی شرط ختم ہونے سے درخواست کا عمل نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، لیکن غیر ملکی تعلیم کے معیار، ادارے کی شناخت، فیس، ویزا اور مستقبل میں پاکستان میں پیشہ ورانہ رجسٹریشن جیسے عوامل بدستور اہم رہیں گے۔
پی ایم ڈی سی کی وضاحت کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ بیرون ملک میڈیکل یا ڈینٹل ادارے میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا اب لازمی پیشگی شرط نہیں۔ طلبہ کو کسی بھی اضافی ضابطے کے بارے میں قیاس کے بجائے کونسل کی باقاعدہ ہدایات سے تصدیق کرنی چاہیے، خصوصاً اگر وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں طبی یا دندان سازی کی پریکٹس کا ارادہ رکھتے ہوں۔

