کراچی: میر رضا علی کی ہلاکت سے متعلق پولیس تفتیش اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لینے والے عدالتی کمیشن نے تفتیشی افسر کو ہدایت دی ہے کہ وہ رائیڈ ہیلنگ گاڑی کے ڈرائیور احسان اللہ کے آجر اور مالک مکان سے رابطہ کرکے اس کی ملازمت اور رہائش بحال کرنے کی درخواست کرے۔ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم یک رکنی کمیشن نے واضح کیا کہ ڈرائیور مقدمے کا ملزم نہیں بلکہ ایک اہم گواہ ہے جس نے حقائق سامنے لانے میں پولیس اور مقتول کے خاندان سے تعاون کیا۔

تحریری حکم کے مطابق تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری آجر اور مالک مکان کو یقین دلائیں گے کہ احسان اللہ کے خلاف قتل کے مقدمے میں کوئی جابرانہ کارروائی زیر غور نہیں اور ان سے بھی محض ڈرائیور کی مدد کرنے پر کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا۔ کمیشن نے یہ حکم اس بیان کے بعد جاری کیا جس میں احسان اللہ نے بتایا تھا کہ اس کے آجر نے روزگار کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی واپس لے لی اور مالک مکان نے اسے رہائش سے نکال دیا، جس کے باعث اسے فیروز آباد تھانے میں پناہ لینا پڑی۔

کمیشن نے نوٹ کیا کہ ڈرائیور نے میر رضا کی تلاش کے دوران خاندان کو سفر کی تفصیلات، مقام کا نقشہ اور ایپ سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ حکم میں اس صورت حال پر ناراضی ظاہر کی گئی کہ تعاون کرنے والے گواہ کو سہولت دینے کے بجائے نظام عملاً اسے مشتبہ شخص کی طرح برتاؤ کا سامنا کرا رہا ہے۔ کمیشن کی ہدایت براہ راست ملازمت یا کرایہ داری کا عدالتی نفاذ نہیں؛ اس میں تفتیشی افسر کو متعلقہ افراد سے رابطے، غلط فہمی دور کرنے اور معاہدے دوبارہ قائم کرنے کی درخواست کا حکم دیا گیا ہے۔

میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش کراچی کے گلستان جوہر میں ایک شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے ملی۔ ابتدائی طبی معائنے اور تفتیشی عمل پر خاندان نے سوالات اٹھائے، جبکہ بعد کے طبی بورڈ اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے موت کو خودکشی سے مطابقت نہ رکھنے اور گولی و تشدد کے شواہد سے جوڑا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کو قتل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم کسی ملزم کی حتمی شناخت یا جرم کا عدالتی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

مقتول کے خاندان نے شفاف تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست کی تھی، جسے سندھ ہائیکورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ جاری تفتیش میں براہ راست عدالتی مداخلت مناسب نہیں اور ایسی ٹیم کی تشکیل حکومت کا اختیار ہے۔ سندھ حکومت کی درخواست پر قائم عدالتی کمیشن پولیس تفتیش کی میرٹ، طبی معائنے میں تضادات اور مختلف گواہوں کے بیانات کا جائزہ لے رہا ہے؛ یہ کمیشن خود فوجداری مقدمے میں کسی شخص کو مجرم قرار دینے والی ٹرائل کورٹ نہیں۔

کمیشن نے میر رضا کے کاروباری شراکت داروں احمد اور عبداللہ اور پولیس افسر ارشد آفریدی کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ مزید افراد اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کو آئندہ سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے، جو 7 ستمبر کو مقرر ہے۔ تفتیشی افسر کو ڈرائیور کے روزگار اور رہائش سے متعلق پیش رفت بھی کمیشن کے سامنے رکھنا ہوگی۔