میرانشاہ: خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں میرانشاہ بائی پاس روڈ کے قریب نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے میرانشاہ پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او میرا خان شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق افسر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ڈیوٹی پر موجود تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر سجاد حسین نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میرا خان کو متعدد گولیاں لگیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے گئے۔ دستیاب ابتدائی معلومات میں حملہ آوروں کی شناخت یا تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے اس مرحلے پر واقعے کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔
پولیس نے حملے کے فوراً بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ واقعے کے حالات، حملے کے طریقہ کار اور ممکنہ محرکات کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ ڈی پی او نے کہا کہ پولیس فورس کے حوصلے بلند ہیں اور اہلکار حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
شمالی وزیرستان اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے۔ تاہم ہر واقعے کی نوعیت، ذمہ داری اور محرک الگ تفتیش کا تقاضا کرتے ہیں، اس لیے میرانشاہ کے تازہ حملے کو صرف پولیس کی باضابطہ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہی کسی بڑے سلسلے سے جوڑا جا سکتا ہے۔
سکیورٹی سے متعلق ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں تشدد سے منسلک اموات میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی، اور بلوچستان و خیبرپختونخوا کو سب سے زیادہ متاثرہ صوبے قرار دیا گیا تھا۔ یہ وسیع تر اعداد سکیورٹی چیلنج کی شدت کا پس منظر فراہم کرتے ہیں، مگر میرانشاہ حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیتے۔
اکتوبر کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس پر دیگر حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کوہاٹ کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہیں۔ صوبے میں پولیس اہلکاروں کی حفاظت اور حساس علاقوں میں گشت و چیک پوسٹوں کی سکیورٹی مسلسل اہم انتظامی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
تازہ واقعے میں پولیس کی تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ حملہ آوروں کی گرفتاری، کسی تنظیم کی ممکنہ ذمہ داری یا حملے کے پس پردہ مقصد سے متعلق آئندہ سرکاری معلومات ہی واقعے کی مکمل تصویر واضح کریں گی۔
