لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت 2027 کے شیڈول میں دوسری مرتبہ تبدیلی کرتے ہوئے تہوار کے لیے 12، 13 اور 14 مارچ کی تاریخیں منظور کر لی ہیں۔ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد اس سے پہلے اعلان کردہ جنوری اور فروری کے دس روزہ پروگرام کی جگہ تین روزہ مارچ شیڈول نافذ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق لاہور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے تہوار کی تاریخوں میں تبدیلی کی سمری پنجاب کے محکمہ داخلہ کو بھیجی تھی، جسے منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ کابینہ نے مارچ کی نئی تاریخوں کی منظوری دے دی۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 29 جنوری سے 7 فروری تک بسنت منانے کا اعلان کیا تھا، جس میں 5 فروری کو یوم کشمیر کے باعث وقفہ شامل تھا۔
نئے فیصلے کے نتیجے میں تہوار اب مسلسل تین روز 12 سے 14 مارچ تک ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس سے پہلے طویل پروگرام کو لاہور کی ثقافتی شناخت اور پنجاب کے روایتی ورثے کے فروغ سے جوڑا گیا تھا، تاہم تازہ تبدیلی کے بعد متعلقہ محکموں کو حفاظتی اور انتظامی تیاریوں کو نئے شیڈول کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔
بسنت 2027 کی تیاری ایک ریگولیٹری فریم ورک کے تحت جاری ہے جس میں پتنگوں کی تیاری، فروخت، نقل و حمل اور ڈور کے استعمال کے لیے قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگ بازی صرف مقررہ تہوار کے دنوں میں اجازت کے ساتھ ہوگی۔ کیمیکل لگی، دھاتی یا تیز دھار ڈور پر پابندی برقرار ہے، جبکہ منظور شدہ سائز کی پتنگوں اور مقررہ معیار کی سوتی ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
پتنگ سازوں کی رجسٹریشن 5 ستمبر سے شروع کی گئی تھی۔ لائسنس کے لیے درخواست دہندگان کی جانچ اور ان کے کاروباری مقامات کے معائنے کی ذمہ داری اسسٹنٹ کمشنرز کو دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص پورٹل بھی متعارف کرایا ہے تاکہ مینوفیکچررز اور دیگر متعلقہ فریق قانونی تقاضے مکمل کر سکیں۔ ممنوعہ ڈور کی تیاری، نقل و حمل یا استعمال پر کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔
حکومت لاہور کی سڑکوں، پارکوں اور گرین بیلٹس کی آرائش کے ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ اندرون شہر میں روایتی رنگوں، مقامی کھانوں اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کی تجاویز زیر غور رہی ہیں، تاہم نئی تاریخوں کے بعد حتمی پروگرام اور انتظامی تفصیلات الگ سے سامنے آ سکتی ہیں۔
لاہور میں بسنت کو فروری 2026 میں طویل پابندی کے بعد محدود اور سخت حفاظتی شرائط کے ساتھ بحال کیا گیا تھا۔ 2027 کے لیے تاریخ کی دوسری تبدیلی سے واضح ہے کہ انتظامیہ تہوار کے دورانیے اور انتظامات کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہے۔ حتمی کامیابی کا انحصار حفاظتی ضوابط، ممنوعہ ڈور کے خلاف نفاذ اور بڑے عوامی اجتماع کے انتظام پر ہوگا۔
