اسلام آباد: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر 20 اکتوبر 2026 کو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد، کابینہ کے ارکان اور سینئر حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صدر معیزو اور خاتون اول کا استقبال کیا گیا اور انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق مالدیپ کے صدر 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ پروگرام کے تحت انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ دیا جائے گا، جبکہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ محدود اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ صدر آصف علی زرداری سے بھی ان کی ملاقات طے ہے اور صدر پاکستان ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت دیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کی قیادت دوطرفہ تعلقات کے پورے دائرہ کار کا جائزہ لے گی۔ تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط ان شعبوں میں شامل ہیں جن میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے دوران پاکستان۔مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد ہونا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان رابطے بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں، تاہم ان کی حتمی تفصیل دستخط کے بعد ہی واضح ہوگی۔
یہ گیارہ برس میں مالدیپ کے کسی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اس سال دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دورے کو دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔ مذاکرات کے نتائج اور ممکنہ معاہدوں کی نوعیت دورے کے اگلے مراحل میں سامنے آئے گی۔
