سندھ کابینہ نے نوجوان کاروباری میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں طے کیا گیا کہ رپورٹ صوبائی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے گی اور اس کی ایک نقل متاثرہ خاندان کو بھی فراہم کی جائے گی۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد تحقیقاتی عمل سے متعلق معلومات کو باضابطہ طور پر سامنے لانا اور رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کا طریقہ کار بنانا ہے۔

میر رضا علی، جو ایک نوجوان کاروباری تھے، ان کی لاش جولائی کے آخر میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ واقعے کے بعد تحقیقات کے طریقۂ کار اور ممکنہ غفلت سے متعلق سوالات اٹھے اور سندھ حکومت نے معاملے کی عدالتی انکوائری کے لیے کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے سماعتوں اور دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کے حوالے کی تھی۔ رپورٹ سات الگ سربمہر لفافوں میں پیش کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق رپورٹ کو خفیہ رکھنے کے بجائے عوامی دستاویز بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے تمام مندرجات اور ذمہ داری سے متعلق ممکنہ نتائج کی مکمل تفصیل سرکاری طور پر شائع ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اس لیے کسی فرد یا ادارے کو رپورٹ کی اشاعت سے پہلے حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

عدالتی کمیشن کا کام واقعے کے حالات، پولیس یا دیگر اداروں کی ممکنہ کوتاہی اور تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا۔ کمیشن کی رپورٹ تحقیقاتی اور انتظامی احتساب کے عمل کا حصہ ہے؛ یہ بذات خود کسی فوجداری مقدمے میں عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اگر رپورٹ میں کسی شخص یا ادارے کے خلاف کارروائی کی سفارش موجود ہوئی تو اس پر متعلقہ قانونی اور انتظامی طریقۂ کار کے مطابق مزید قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

سندھ حکومت کے فیصلے سے کیس میں شفافیت کے مطالبات کو ایک نیا مرحلہ ملا ہے۔ متاثرہ خاندان اور عوام کے لیے اصل رپورٹ تک رسائی سے یہ جانچ ممکن ہوگی کہ کمیشن نے کن شواہد، ادارہ جاتی خامیوں اور سفارشات کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے باضابطہ اجرا کے بعد ہی اس کے نتائج اور حکومت کی عمل درآمد کمیٹی کے اقدامات کی مکمل تصویر سامنے آسکے گی۔