پاکستان نے وسطی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) کانفرنس کے موقع پر ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے کراچی سے پشاور تک مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے کوریڈور کی مکمل جدید کاری کو تجارت، مال برداری اور علاقائی رابطے کے لیے اہم منصوبے کے طور پر پیش کیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں ترقیاتی شراکت داروں کے مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق ایم ایل ون کی لمبائی 1,726 کلومیٹر ہے اور یہ کراچی کو پشاور سے ملاتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کی محدود صلاحیت کے باوجود یہ لائن پاکستان ریلوے کے 76 فیصد مسافر ٹریفک اور 98 فیصد مال بردار ٹریفک کو سنبھالتی ہے۔ مجوزہ اپ گریڈیشن کے تحت لائن کی گنجائش 34 سے بڑھا کر 120 ٹرین جوڑوں تک لے جانے، مسافر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک اور مال گاڑیوں کی رفتار 30 سے بڑھا کر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق جدید کاری سے کراچی سے روہڑی کا سفر آٹھ گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً ساڑھے چار گھنٹے رہ سکتا ہے۔ مال برداری کی سالانہ طلب 2035 تک تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا۔ یہ اعداد منصوبے کے مجوزہ نتائج اور سرکاری تخمینوں کی نمائندگی کرتے ہیں؛ عملی نتائج تعمیر، فنانسنگ اور آپریشنل نفاذ پر منحصر ہوں گے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر مالیت کا کراچی-روہڑی حصہ ایم ایل ون جدید کاری کا سب سے آگے بڑھا ہوا جزو ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک فنانسنگ کی کوشش کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور یورپی سرمایہ کاری بینک کو ممکنہ شریک مالیاتی اداروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق منصوبے کی تیاری کے لیے فنانسنگ حاصل ہو چکی ہے، انجینئرنگ کام کیا گیا ہے اور خریداری و مالیاتی عمل آگے بڑھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ کراچی-روہڑی حصے کو الگ منصوبہ نہیں بلکہ پورے کراچی-پشاور کوریڈور کی جدید کاری کے پہلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت روہڑی سے پشاور تک باقی حصوں کے لیے بھی فنانسنگ کا راستہ تیار کرنا چاہتی ہے۔ اس مرحلے پر باقی کوریڈور کے لیے مکمل مالی بندوبست یا تعمیراتی شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے منصوبے کی حتمی تکمیل کی مدت ابھی واضح نہیں۔
