ڈھاکا: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بنگلہ دیش کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کا آؤٹ لک ’منفی‘ سے بہتر کر کے ’مستحکم‘ کر دیا ہے، جبکہ ملک کی طویل مدتی جاری کنندہ ریٹنگ B2 پر برقرار رکھی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایجنسی نے اس فیصلے کے لیے سیاسی خطرات میں نسبتاً کمی، بیرونی کھاتے کی مضبوطی، زرمبادلہ ذخائر کی بحالی، شرح مبادلہ میں زیادہ لچک اور ترسیلات زر کی بلند سطح کو اہم عوامل قرار دیا۔
موڈیز نے اپنے جائزے میں کہا کہ درآمدی لاگت میں اضافے، گیس کی رسد میں اتار چڑھاؤ اور تیار ملبوسات کے شعبے کو درپیش مشکلات کے باوجود بنگلہ دیشی معیشت نے بنیادی لچک دکھائی ہے۔ ایجنسی کے مطابق انتخابات کے بعد سیاسی انتقال اور نئی حکومت کے مضبوط مینڈیٹ نے اصلاحات سے متعلق بعض سیاسی خطرات کم کیے ہیں۔ وزیراعظم تاریق رحمان کی حکومت فروری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد معاشی اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
بنگلہ دیش کی بیرونی پوزیشن میں بہتری کے باوجود معیشت کو کئی بڑے چیلنجز بدستور درپیش ہیں۔ مہنگائی، سست معاشی نمو، توانائی کی بلند قیمتیں، بینکاری شعبے کی کمزوریاں اور غیر ملکی زرمبادلہ کے دباؤ ایسے عوامل ہیں جنہیں موڈیز نے مجموعی کریڈٹ پروفائل کے لیے اہم قرار دیا۔ ایجنسی نے B2 ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ملک کی طویل مدتی نمو کی صلاحیت ایک مثبت عنصر ہے، مگر مالیاتی اور بینکاری نظام کی ساختی کمزوریاں اب بھی درجہ بندی کو محدود کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نئے بین الاقوامی قرض اور پالیسی تعاون کے لیے اداروں سے رابطے میں ہے۔ ملک نے اپنے موجودہ 5.5 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے بعد متبادل بندوبست پر مذاکرات شروع کیے ہیں۔ عالمی بینک نے جون میں 1.1 ارب ڈالر کی ہنگامی مالی معاونت کی منظوری دی تھی تاکہ خوراک کی فراہمی، کمزور گھرانوں اور کاروباروں کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث کھاد، ایندھن اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔
موڈیز کا تازہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے فوری ریٹنگ اپ گریڈ نہیں ہے۔ ’مستحکم‘ آؤٹ لک کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ B2 درجہ بندی کے مثبت اور منفی خطرات فی الحال نسبتاً متوازن سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت جولائی میں ایس اینڈ پی کی جانب سے بنگلہ دیش کے آؤٹ لک کو بینکاری مسائل اور توانائی کے خطرات کے باعث ’منفی‘ کرنے کے فیصلے سے مختلف سمت دکھاتی ہے، جس سے مختلف ریٹنگ ایجنسیوں کے جائزوں میں خطرات کی تشخیص کا فرق بھی سامنے آتا ہے۔
آئندہ ریٹنگ کا رخ حکومت کی اصلاحاتی پیش رفت، مالی خسارے کے انتظام، بینکنگ شعبے کی صحت، مہنگائی، بیرونی قرضوں کی دستیابی اور زرمبادلہ ذخائر کے استحکام سے جڑا رہے گا۔ موڈیز نے موجودہ فیصلے میں بہتری کے اشارے تسلیم کیے ہیں، تاہم B2 ریٹنگ برقرار رکھ کر واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی کریڈٹ پوزیشن میں موجود بنیادی کمزوریاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

