متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مرکزی دفاتر کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارٹی ترجمان نے ایک بیان میں اس اقدام کو کراچی کی معاشی اور انتظامی اہمیت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے فیصلے پر نظرثانی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ خبر میں پیش کی گئی کئی تفصیلات ایم کیو ایم کے بیان پر مبنی ہیں۔

پارٹی کے مطابق دونوں اداروں کے عارضی ہیڈکوارٹر انتظامی بندوبست کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ منتقل کرنے کا منصوبہ ہے اور اس عمل کی نگرانی کے لیے سات رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی عارضی منتقلی نومبر 2026 اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی منتقلی دسمبر میں متوقع ہے۔ رپورٹ میں وفاقی حکومت یا دونوں اداروں کا الگ سرکاری نوٹیفکیشن نقل نہیں کیا گیا، اس لیے تاریخوں کو پارٹی کے بیان سے منسوب رکھا گیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مستقل 25 منزلہ ہیڈکوارٹر کے منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے، جس کا رقبہ تقریباً 12 لاکھ 40 ہزار مربع فٹ ہوگا۔ پارٹی نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی اور ہوابازی مرکز رہا ہے، اس لیے اہم قومی اداروں کے مرکزی دفاتر کی منتقلی شہر کے انتظامی کردار اور روزگار کے مواقع پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ترجمان نے 2023 میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کو آپریشنل اور ریگولیٹری اداروں میں تقسیم کرنے کے پارلیمانی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے بعد سے مرکزی انتظامی ڈھانچہ بتدریج اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پارٹی نے وفاقی حکومت اور وزارتِ ہوابازی سے مطالبہ کیا کہ دونوں اداروں کے بنیادی دفاتر کراچی میں رکھنے کے واضح احکامات جاری کیے جائیں۔ یہ مطالبہ اور اس کے حق میں دیے گئے دلائل سیاسی جماعت کا مؤقف ہیں۔

اردو ہیڈ لائنز نے ڈان کی براہِ راست رپورٹ کی بنیاد پر منصوبے کو ایم کیو ایم کے بیان اور مخالفت کے طور پر رپورٹ کیا ہے، مکمل شدہ منتقلی کے طور پر نہیں۔ متعلقہ وفاقی وزارت، سی اے اے یا پی اے اے کی سرکاری وضاحت خبر میں موجود نہیں تھی۔ اگر باضابطہ حکم، ٹائم لائن یا نظرثانی سامنے آتی ہے تو اسے اسی واقعے کی مادی تازہ کاری کے طور پر شامل کیا جائے گا۔