کراچی: صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کی کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے چار پاکستانی ملاح اور ہلاک ہونے والے تین پاکستانی عملے کے ارکان کی میتیں اتوار کی شام کراچی پہنچ گئیں۔ ڈان کے مطابق پاکستانی عملہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ای ٹی 694 کے ذریعے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا۔
زخمی پاکستانیوں میں یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی وطن لائی گئیں۔ یہ تینوں اس کارروائی کے دوران جان سے گئے تھے جس میں صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی فورسز نے بحری جہاز کو قزاقوں کے قبضے سے چھڑایا تھا۔ پاکستانی حکام نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ جہاز پر دس پاکستانی عملے کے ارکان موجود تھے۔
کراچی ایئرپورٹ پر سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، سینیٹر وقار مہدی، ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی فاروق ستار اور دیگر نے زخمی ملاحوں کا استقبال کیا۔ سندھ حکومت کے نمائندوں نے زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ زخمیوں کو طبی دیکھ بھال کے لیے منتقل کیا گیا جبکہ میتیں قانونی اور انتظامی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔
ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالیہ کے قریب مسلح قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور دیگر متعلقہ ادارے عملے کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے صومالی حکام اور علاقائی شراکت داروں سے رابطے میں رہے۔ بعد میں پنٹ لینڈ فورسز کی کارروائی میں جہاز بازیاب ہوا، تاہم پاکستانی عملے کے تین ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ واقعے کی مختلف تفصیلات متعلقہ حکومتوں اور حکام کے بیانات سے سامنے آئی ہیں۔
حکومت پاکستان نے باقی پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری رکھنے کا کہا ہے۔ اس معاملے نے بیرون ملک تجارتی جہازوں پر کام کرنے والے پاکستانی ملاحوں کی سلامتی، قزاقی سے متاثرہ سمندری راستوں میں تحفظ اور ہنگامی سفارتی رابطوں کی اہمیت کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں۔
