ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران آٹھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کو ڈان، بزنس ریکارڈر اور دیگر پاکستانی نیوز رومز نے رپورٹ کیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد کی گئی اور اسے ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں سکیورٹی ذرائع نے اہم کمانڈر قرار دیا۔ فورسز نے کارروائی کے مقام سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور غیر ملکی کرنسی برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق ممکن نہیں تھی، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد، افراد کی شناخت، تنظیمی وابستگی اور برآمدگیوں سے متعلق معلومات کو سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

ریاستی ادارے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جنگجوؤں کے لیے 'فتنہ الخوارج' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ڈان کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے اس کارروائی کو آپریشن عزمِ استحکام کے تناظر میں بیان کیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی الگ الگ بیانات میں ڈیرہ اسماعیل خان کی کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیبر پختونخوا، بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان اور قبائلی اضلاع سے ملحقہ علاقوں، میں حالیہ ہفتوں کے دوران حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کا سلسلہ تیز رہا ہے۔ ڈان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے صوبے میں تشدد کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اسی پس منظر میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔

حالیہ آپریشن سے متعلق سرکاری مؤقف یہ ہے کہ فورسز دہشت گرد نیٹ ورکس، کمانڈ ڈھانچے اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم کسی بھی انسداد دہشت گردی کارروائی میں ہلاک افراد کی شناخت، مبینہ وابستگی اور واقعے کی مکمل تفصیل کی آزاد تصدیق اہم رہتی ہے۔ حکام نے علاقے میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔