اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) کے انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔ دی نیوز کے مطابق پارٹی کے تمام اہم عہدیدار، جن میں صدر سید صبغت اللہ شاہ اور سیکرٹری جنرل شاہد محمود خان شامل ہیں، بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے اور الیکشن کمیشن نے پارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی انتخابی دستاویزات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان انتخابات کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
انتخابات ایکٹ 2017 کی دفعہ 208(1) کے تحت الیکشن کمیشن میں درج ہر سیاسی جماعت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آئین کے مطابق وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مقررہ مدت کے اندر پارٹی عہدیداروں کا انتخاب کرے۔ انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ جاری ہونا صرف تنظیمی کارروائی نہیں بلکہ انتخابی عمل میں جماعت کی قانونی حیثیت سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ مقررہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی کسی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان کے حصول اور انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے درکار دستاویزی اہلیت پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔
پی ایم ایل ایف سندھ کی سیاست میں طویل عرصے سے فعال جماعت ہے اور پیر پگارا کی قیادت میں مختلف ادوار میں قومی اور صوبائی سیاست میں حصہ لیتی رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی تازہ کارروائی کا تعلق پارٹی کے اندرونی انتخابی عمل کی قانونی تصدیق سے ہے؛ اس سرٹیفکیٹ کو آئندہ عام یا ضمنی انتخابات میں کسی مخصوص نشست، امیدوار یا انتخابی نتیجے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ انتخابی نشان اور امیدواروں سے متعلق دیگر تقاضے الگ قانونی اور انتظامی مراحل کے تحت طے ہوتے ہیں۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے اسی دوران متحدہ علما مشائخ کونسل آف پاکستان کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔ اس جماعت کا انتخابی عمل 18 مئی 2026 کو ہوا تھا، جس میں ملک صفدر علی اعوان کو پارٹی سربراہ جبکہ ملک عثمان اعظم کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی جانچ کا بنیادی مقصد اس امر کی تصدیق کرنا ہے کہ جماعتیں اپنے آئین اور انتخابات ایکٹ کے تقاضوں کے مطابق داخلی تنظیمی عمل مکمل کر رہی ہیں۔ پی ایم ایل ایف کے سرٹیفکیٹ کا اجرا اسی قانونی نگرانی کے سلسلے کی تازہ پیش رفت ہے۔
