کراچی: صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے چار زخمی پاکستانی عملہ ارکان اتوار 4 اکتوبر کو کراچی پہنچ گئے، جبکہ ٹینکر کی بازیابی کی کارروائی کے دوران جان سے جانے والے تین پاکستانی ملاحوں کی میتیں بھی وطن منتقل کر دی گئیں۔ ڈان اور جیو نیوز کے مطابق یہ افراد ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ای ٹی 694 کے ذریعے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔
واپس آنے والے زخمی پاکستانیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں۔ جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے کی گئی ہے۔ پاکستان کے ایتھوپیا اور جبوتی میں سفارتی نمائندوں نے ادیس ابابا سے روانگی کے وقت ان افراد کو رخصت کیا تھا، جبکہ کراچی پہنچنے پر صوبائی اور سیاسی نمائندوں نے عملے کے ارکان کا استقبال کیا۔
ایم ٹی آنر 25 کو اپریل 2026 میں صومالیہ کے قریب مسلح قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ کئی ماہ تک عملے کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رہیں اور اہل خانہ نے بھی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیلیں کیں۔ ستمبر کے آخر میں پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے ٹینکر کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ قزاقوں کے ہاتھوں ہلاکتوں اور کارروائی کے حالات سے متعلق مختلف ذرائع نے تفصیلات بیان کی ہیں، اس لیے ان پہلوؤں کو متعلقہ حکام کے بیانات سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے گئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جاں بحق ملاحوں کے خاندانوں کے لیے مالی امداد اور دیگر سہولتوں پر مشتمل ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت نے باقی متعلقہ عملے کی محفوظ واپسی کے لیے دوست ممالک اور متعلقہ حکام سے رابطے برقرار رکھنے کی بات کی ہے۔
چار زخمی ملاحوں اور تین میتوں کی کراچی آمد اس کئی ماہ طویل یرغمالی بحران میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ واقعہ نے تجارتی جہاز رانی، پاکستانی سی فیررز کی سلامتی اور خطرناک سمندری راستوں پر قزاقی کے خلاف بین الاقوامی تعاون کے مسائل کو بھی نمایاں کیا ہے۔ حکام کی جانب سے وطن واپس آنے والے زخمی افراد کے علاج اور جاں بحق افراد کے خاندانوں کے ساتھ انتظامی تعاون جاری رکھنے کی توقع ہے۔
