اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام نے پاکستان میں ذہنی صحت کی خدمات کے بڑے خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندازاً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت سے متعلق دیکھ بھال کی ضرورت ہے، جبکہ خدمات تک رسائی رکھنے والوں کا تناسب تقریباً 5 فیصد ہے۔ اس حساب سے علاج اور ضروری سہولت کے درمیان خلا قریب 95 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اسلام آباد میں منعقدہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کے دوران پیش کیے گئے، جس میں وفاقی و صوبائی نمائندوں، عالمی اداروں اور ماہرین نے ذہنی صحت کی پالیسی اور عملی نفاذ پر گفتگو کی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ماہرِ نفسیات کی دستیابی تقریباً 0.19 فی ایک لاکھ آبادی ہے، جو زیادہ آمدنی والے ممالک میں رپورٹ ہونے والی اوسط سے کہیں کم ہے۔ اس کمی کا اثر خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ محسوس ہو سکتا ہے جہاں پہلے ہی بنیادی صحت کی سہولتیں محدود ہیں۔ اعداد و شمار ایک تخمینہ ہیں اور ان کا مقصد خدمات کی مجموعی ضرورت اور دستیابی کے فرق کو واضح کرنا ہے۔
سمٹ کے اختتام پر ذہنی صحت کو بنیادی اور کمیونٹی سطح کی صحت خدمات میں شامل کرنے، اسکولوں میں نفسیاتی معاونت بڑھانے اور ذہنی صحت کے افرادی قوت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے صوبوں اور وفاقی اکائیوں سے پالیسی اقدامات کی تحریری توثیق اور نفاذ میں شمولیت کی درخواست کی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اگلے بارہ ماہ میں صوبوں کی مشاورت سے قابلِ پیمائش عمل درآمد اور نگرانی کا منصوبہ تیار کرنے کا ہدف بھی بیان کیا ہے۔
حالیہ سمٹ قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035 کے اجرا کے فوراً بعد منعقد ہوئی۔ پالیسی کا مقصد علاج کو بڑے اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے بنیادی صحت مراکز، اسکولوں اور کمیونٹیز کے قریب لے جانا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے بھی سمٹ میں پیش کیے گئے 3 کروڑ 24 لاکھ ضرورت مند افراد اور تقریباً 5 فیصد رسائی کے تخمینوں کی رپورٹنگ کی ہے۔
ماہرین اور حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صرف پالیسی کا اعلان کافی نہیں ہوگا اور اصل امتحان بجٹ، تربیت یافتہ افرادی قوت، صوبائی شمولیت، خدمات کے معیار اور مسلسل نگرانی کا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار پاکستان کے لیے ایک ایسے شعبے میں فوری توجہ کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں جو طویل عرصے سے وسائل اور ماہر عملے کی کمی کا سامنا کرتا رہا ہے۔
