اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ادویات کی فروخت سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ ڈاکٹر ہونا کسی شخص کو تجارتی طور پر ادویات فروخت کرنے کے لیے درکار ڈرگ سیل لائسنس سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ دی نیوز کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے بعض ڈاکٹروں کے خلاف ادویات کی مبینہ غیر لائسنس یافتہ فروخت سے متعلق ریگولیٹری کارروائی روک دی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں علاج کے دوران ڈاکٹر کی جانب سے اپنے مریض کو دوا فراہم کرنے اور باقاعدہ تجارتی میڈیکل اسٹور یا ادویات کی فروخت کا کاروبار چلانے کے درمیان واضح فرق کیا۔ عدالت کے مطابق فارمیسی ایکٹ 1967 کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو اپنے مریض یا اپنے نسخے کے مطابق دوا دینے پر غیر قانونی فارمیسی پریکٹس کے زمرے میں نہیں ڈالتی، لیکن اس شق کو آزادانہ تجارتی ڈرگ بزنس چلانے کا عمومی اجازت نامہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ڈرگز ایکٹ 1976 ادویات کے ذخیرے، تقسیم اور فروخت کے لیے الگ ریگولیٹری نظام فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کی دفعہ 23(1)(c) کے تحت ادویات کی فروخت مقررہ لائسنس اور اس کی شرائط کے مطابق ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ طبی رجسٹریشن اور فارمیسی یا ڈرگ سیل لائسنس مختلف قانونی مقاصد پورے کرتے ہیں اور کسی ایک پیشہ ورانہ رجسٹریشن کو دوسرے شعبے کے لائسنس کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمہ ان ڈاکٹروں سے متعلق تھا جن پر الزام تھا کہ وہ اپنے کلینکس میں مطلوبہ ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ اور فروخت کر رہے تھے۔ جنوری 2020 میں معائنے کے بعد ادویات قبضے میں لے کر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم ڈاکٹروں نے ریگولیٹری حکام کو جواب دینے سے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس خود کوئی حتمی سزا یا ذمہ داری طے نہیں کرتا، اس لیے ایسے مرحلے پر عدالتی مداخلت صرف غیر معمولی حالات، مثلاً واضح طور پر اختیار نہ ہونے یا ناقابلِ تلافی قانونی خلاف ورزی، میں مناسب ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ تعین کرنے کے لیے کہ کسی کلینک میں دوا محض علاج کے لازمی حصے کے طور پر دی جا رہی ہے یا باقاعدہ فروخت کا کاروبار چل رہا ہے، شواہد دیکھنا ضروری ہوگا۔ اس میں ادویات کی مقدار، خرید و رسد کے انتظامات، سیلز ریکارڈ، ادائیگیوں، رسیدوں اور نسخوں جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ بینچ نے ریگولیٹری کارروائی بحال کر دی، لیکن ڈاکٹروں کو قصوروار قرار نہیں دیا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے جوابات اور ریکارڈ کا آزادانہ جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔
