کراچی: سومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں آنے والے ٹینکر MT Honour 25 سے متعلق ریسکیو کارروائی کے بعد چار زخمی پاکستانی ملاح اور تین جاں بحق پاکستانی عملے کے ارکان کی میتیں اتوار 4 اکتوبر کو کراچی پہنچ گئیں۔ جیو نیوز کے مطابق خصوصی پرواز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی جہاں وفاقی اور صوبائی حکام نے متاثرہ افراد کا استقبال کیا اور ضروری انتظامات کی نگرانی کی۔
رپورٹس کے مطابق زخمی پاکستانیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں، جبکہ رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی اسی پرواز سے وطن لائی گئیں۔ دفتر خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے جبوتی اور ایتھوپیا میں سفیروں نے ادیس ابابا سے روانگی کے وقت پاکستانی عملے اور میتوں کو رخصت کیا۔ ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET 694 کے ذریعے انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے دفتر خارجہ کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکومت اور پاکستان کے سفارتی مشنز نے متاثرہ عملے کی واپسی، علاج اور قانونی کارروائیوں میں معاونت کی۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ چار پاکستانیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ باقی پاکستانی عملے کے ارکان کی واپسی کے لیے بھی رابطے جاری ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق MT Honour 25 کو 21 اپریل کو سومالیہ کے پونٹ لینڈ خطے کے قریب قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 17 افراد سوار تھے جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ بعد میں پونٹ لینڈ فورسز نے کارروائی کر کے ٹینکر کو بازیاب کرانے اور متعدد قزاقوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کارروائی میں پانچ عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جن میں تین پاکستانی بھی شامل تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
پاکستانی حکام کے مطابق زخمیوں کو ساحل پر لانے کے بعد طبی امداد دی گئی اور سفارتی مشن نے مقامی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ رکھا۔ وطن واپسی کے بعد بھی زخمی عملے کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کا عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔
یہ واقعہ بحیرہ عرب اور افریقہ کے مشرقی ساحل کے قریب تجارتی جہاز رانی کو درپیش قزاقی کے خطرات کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پاکستانی حکومت نے اس معاملے میں سفارتی رابطوں اور شہریوں کی واپسی کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے، جبکہ باقی متاثرہ عملے کی محفوظ واپسی سے متعلق پیش رفت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
