ملتان: ایک 14 سالہ لڑکے کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر بہاولپور میں پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس ریمانڈ کے دوران حراست سے فرار ہوا تھا اور بعد میں ناردرن بائی پاس کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ واقعے کے بعد وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں نے عدالتی عمل اور ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
ملتان کی ایک عدالت نے منگل کو ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ پولیس کے مطابق توقیر پر الزام تھا کہ اس نے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنے لیے کام کرنے والے 14 سالہ لڑکے کو گاڑی سے ٹکر ماری اور اسے مہلک زخم آئے۔ ملزم کو پیر کو گرفتار کیا گیا اور اگلے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ مقدمے میں الزامات کا حتمی تعین ٹرائل کے ذریعے ہونا تھا۔
سی سی ڈی کے ترجمان کے مطابق بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر اہلکاروں نے موٹر سائیکل سوار دو افراد کو رکنے کا اشارہ کیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور توقیر مارا گیا۔ یہ پولیس کا سرکاری مؤقف ہے۔ دستیاب معلومات میں کسی آزاد عدالتی یا تفتیشی ادارے کی جانب سے مقابلے کے حالات کی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے واقعے کو ثابت شدہ مقابلہ قرار دینے کے بجائے مبینہ پولیس مقابلہ کہنا ضروری ہے۔
واقعے کے بعد قانونی ماہرین اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ زیر حراست یا ریمانڈ پر موجود ملزمان کی جان اور عدالتی پیشی یقینی بنانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگین الزام کا سامنا کرنے والے شخص کو بھی منصفانہ ٹرائل اور قانونی دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے اور جرم کی سزا عدالت طے کرتی ہے۔ بعض حلقوں نے پنجاب میں حالیہ مبینہ پولیس مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اس سے پہلے سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کر چکا ہے اور بعض واقعات کو ماورائے عدالت قتل قرار دینے کے الزامات لگائے ہیں۔ سی سی ڈی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں قانونی فریم ورک اور آپریشنل ضروریات کے مطابق ہوتی ہیں۔ دونوں مؤقف الگ ہیں اور ہر واقعے کی حقیقت شواہد اور آزاد تحقیقات سے طے ہونی چاہیے۔
اصل مقدمے میں 14 سالہ لڑکے کی ہلاکت بھی ایک سنگین فوجداری معاملہ ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ ملزم کی موت کے بعد اس کے خلاف فوجداری ٹرائل آگے نہیں چل سکے گا، لیکن پولیس حراست سے مبینہ فرار اور بعد کی ہلاکت کے حالات الگ قانونی و انتظامی جانچ کا موضوع بن سکتے ہیں۔ کسی ممکنہ انکوائری، پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد یا عدالتی کارروائی سے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔

