ملتان: ناردرن بائی پاس کے قریب زیر تعمیر پلازہ کی چھت گرنے سے کم از کم ایک شخص جاں بحق اور سات افراد زخمی ہو گئے۔ پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے قریب پیش آیا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ملبے سے سات زخمی افراد کو نکال کر نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک شخص کی لاش بھی ہسپتال پہنچائی گئی۔ نشتر ہسپتال کے ترجمان نے ہسپتال کے ریکارڈ کی بنیاد پر ایک شخص کے مردہ حالت میں لائے جانے کی تصدیق کی۔ امدادی ادارے نے کہا کہ ملبہ ہٹانے اور جگہ مکمل طور پر کلیئر ہونے تک ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود رہیں گی۔
ایک ریسکیو اہلکار کے مطابق حادثے کے وقت تعمیراتی مقام پر آٹھ مزدور موجود تھے۔ تاہم ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے سے پہلے یہ امکان خارج نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کوئی اور شخص بھی نیچے پھنسا ہو۔ اسی وجہ سے سرچ آپریشن صرف ابتدائی طور پر شناخت کیے گئے مزدوروں تک محدود نہیں رکھا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ابتدائی بیان کے مطابق اطلاع ملنے کے تین منٹ کے اندر ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائی میں دس گاڑیاں استعمال کی گئیں، جن میں پانچ ایمبولینسیں، تین ریسکیو موٹر سائیکلیں، ایک ریسکیو وہیکل اور ایک فائر وہیکل شامل تھیں۔ بھاری ملبے کے باعث آپریشن کا بنیادی مقصد زخمیوں تک فوری رسائی اور عمارت کے باقی حصے سے ممکنہ خطرات کے دوران محفوظ طریقے سے ملبہ ہٹانا تھا۔
نشتر ہسپتال کے ترجمان کے مطابق زخمیوں میں سے تین افراد کو سر پر چوٹیں آئیں، تاہم ابتدائی رپورٹ میں ان زخموں کی شدت کی حتمی درجہ بندی نہیں بتائی گئی۔ دیگر زخمیوں کو نسبتاً معمولی چوٹیں آئیں۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
حادثے کی فوری وجہ سے متعلق ریسکیو یا دیگر حکام نے اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔ اس لیے تعمیراتی معیار، ڈیزائن، مواد یا کسی فرد کی غفلت کو تحقیقات سے پہلے حادثے کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ متعلقہ اداروں کی تکنیکی جانچ کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ چھت کس وجہ سے گری اور آیا تعمیراتی یا حفاظتی ضوابط کی کوئی خلاف ورزی ہوئی تھی۔
پاکستان میں تعمیراتی مقامات اور عمارتوں کی چھتیں گرنے کے واقعات ماضی میں بھی جانی نقصان کا سبب بن چکے ہیں۔ ملتان کے تازہ حادثے میں فوری ترجیح ملبے کی مکمل کلیئرنس، ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش اور زخمیوں کا علاج ہے، جبکہ ذمہ داری اور حادثے کی تکنیکی وجہ کا تعین بعد کی تحقیقات کا معاملہ ہوگا۔
