قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے قدرتی گیس سے متعلق محصولات کے دو سرکاری ترمیمی بلوں پر غور مؤخر کردیا ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی کے سید مصطفیٰ محمود نے کی، جبکہ پارٹی کے رکن اور سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے ابتدا ہی میں درخواست کی کہ نیچرل گیس ڈیولپمنٹ سرچارج ترمیمی بل اور گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس، جی آئی ڈی سی، ترمیمی بل کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ کمیٹی نے اس درخواست کے بعد دونوں بل مؤخر کردیے۔ مؤخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بل اس اجلاس میں آگے نہیں بڑھے؛ انہیں مستقل طور پر مسترد یا واپس لیا ہوا نہیں سمجھا جاسکتا۔

پٹرولیم ڈویژن نے جی آئی ڈی سی ترمیمی بل کے ذریعے جمع شدہ فنڈ کے استعمال کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز دی تھی۔ موجودہ مخصوص اختیار پاکستان-ایران، ترکمانستان-پاکستان اور ملک کے اندر گیس پائپ لائنوں کی ترقی سے منسلک بتایا گیا، جبکہ مجوزہ ترمیم کے تحت فنڈ کو تیل اور گیس کے اسٹریٹجک ذخائر سمیت وسیع توانائی تحفظ کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش پیدا کی جانی تھی۔ بل کی مکمل شقیں اور تمام حفاظتی شرائط دستیاب نیوز رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے استعمال کے نئے دائرے کی حتمی صورت پارلیمانی متن اور بعد کی ترامیم سے ہی طے ہوگی۔

ڈان کے مطابق جی آئی ڈی سی کی تقریباً 295 ارب روپے رقم سرکاری خزانے میں غیر استعمال شدہ پڑی ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ کھاد بنانے والی کمپنیوں نے صارفین سے 400 ارب روپے سے زیادہ رقم وصول کی، لیکن قانونی تنازعات کے باعث یہ رقم قومی خزانے تک نہیں پہنچی۔ یہ اعداد ڈان کی رپورٹ اور کمیٹی میں پیش کردہ معلومات سے منسوب ہیں؛ مختلف کمپنیوں، عدالتی مقدمات اور واجب الادا رقم کی الگ مکمل درجہ بندی خبر میں فراہم نہیں کی گئی۔ رقم کی وصولی یا حتمی ذمہ داری متعلقہ قانونی فیصلوں اور حسابات سے طے ہوگی۔

کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ محمود نے اجلاس میں کہا کہ کھاد کمپنیوں کو سستی گیس اس صورت میں فراہم نہیں ہونی چاہیے جب اس کا فائدہ کسان تک منتقل نہ ہو۔ یہ پالیسی مؤقف تھا، کسی مخصوص کمپنی کے خلاف جرم، واجب الادا رقم یا قیمت میں ہیرا پھیری کا عدالتی فیصلہ نہیں۔ کھاد کی گیس قیمت، پیداواری لاگت، بازار کی قیمت اور کسان کو ملنے والے فائدے کے درمیان تعلق کی مکمل جانچ کے لیے کمپنی وار اعداد اور سرکاری قیمت پالیسی درکار ہوگی۔

دونوں بلوں کا التوا حکمران اتحاد میں پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کے پس منظر میں ہوا۔ نوید قمر نے اجلاس کے باہر صحافیوں سے کہا کہ پیپلز پارٹی باقاعدہ وفاقی اتحادی کے بجائے حکومت کی حمایت کر رہی ہے اور یہ تعاون یک طرفہ طور پر غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق پارٹی کے تحفظات میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات، ججوں کی تقرری اور دیگر معاملات شامل ہیں، جن پر حکومت نے غور کا وعدہ کیا مگر قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یہ پیپلز پارٹی کا سیاسی موقف ہے؛ حکومت کا تفصیلی جواب اس رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

نوید قمر نے کہا کہ جب تک تحفظات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، پارٹی حکومتی قانون سازی کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ایک روز قبل داخلہ کمیٹی میں اسلام آباد مقامی حکومت بل آگے بڑھانے کے طریقے پر بھی اعتراض کیا اور بتایا کہ پیپلز پارٹی نے اختلافی نوٹ جمع کرایا تھا۔ گیس محصولات کے دونوں بلوں کا التوا اسی وسیع قانون سازی تعاون کے تنازع کی عملی مثال بنا، مگر اسے وفاقی حکومت سے پیپلز پارٹی کی مکمل علیحدگی، عدم اعتماد یا اتحاد ختم ہونے کا رسمی اعلان نہیں سمجھا جاسکتا۔

قائمہ کمیٹی کسی بل کی شقوں کا جائزہ لے کر منظوری، ترمیم، التوا یا مزید معلومات طلب کرسکتی ہے۔ دونوں بل دوبارہ کمیٹی کے ایجنڈے پر آسکتے ہیں، اور اگر کمیٹی انہیں منظور کرے تو بھی قومی اسمبلی اور بعد کے آئینی و پارلیمانی مراحل باقی رہیں گے۔ اسی طرح کسی محصول کی موجودہ وصولی اور مجوزہ فنڈ استعمال میں تبدیلی اس وقت تک نافذ نہیں ہوگی جب تک قانون سازی مکمل اور متعلقہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہو۔

جی آئی ڈی سی فنڈ کے استعمال کی بحث توانائی تحفظ اور محصولات کی قانونی ملکیت دونوں سے جڑی ہے۔ اسٹریٹجک ذخائر کے لیے مالی وسائل مختص کرنے سے درآمدی رکاوٹوں کے خلاف تحفظ بڑھانے کا حکومتی مقصد ہوسکتا ہے، لیکن فنڈ کے اصل مقصد میں توسیع، شفاف خرچ، پارلیمانی نگرانی اور پہلے سے جمع رقوم کی قانونی حیثیت پر واضح قواعد ضروری ہوں گے۔ موجودہ اجلاس میں ان پالیسی سوالات پر تفصیلی شق وار بحث نہیں ہوسکی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت قائمہ کمیٹی کا دونوں ترمیمی بل مؤخر کرنا، پیپلز پارٹی کا قانون سازی تعاون روکنے کا اعلان، جی آئی ڈی سی فنڈ کے استعمال کو وسیع کرنے کی حکومتی تجویز اور کمیٹی میں پیش کیے گئے 295 ارب اور 400 ارب روپے سے متعلق اعداد ہیں۔ بلوں کی حتمی قسمت آئندہ کمیٹی اجلاس، اتحادی جماعتوں کے سیاسی رابطے اور پارلیمان کے باضابطہ فیصلوں سے طے ہوگی۔