اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبے، کے فور، پر بھاری اخراجات کے باوجود عدم تکمیل کی تحقیقات کے لیے رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ دو ستمبر کو احمد عتیق انور کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے کمیٹی اجلاس میں کیا گیا، جہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے منصوبے کی طویل تاخیر، مالی ضروریات اور شہریوں تک پانی پہنچنے کی غیر یقینی مدت پر تشویش ظاہر کی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے میں ذیلی کمیٹی کا بنیادی اختیار ”بھاری اخراجات کے باوجود کے فور منصوبے کی عدم تکمیل کی تحقیقات“ بتایا گیا ہے۔ ذیلی کمیٹی ابھی اپنی جانچ شروع کرے گی اور اس کے نتائج یا ذمہ داری کا تعین سامنے نہیں آیا۔ اس لیے اس کی تشکیل کو بدعنوانی، غفلت یا مالی نقصان کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ یہ پارلیمانی نگرانی اور حقائق جمع کرنے کا مرحلہ ہے۔
رپورٹ شدہ تفصیلات کے مطابق مجموعی کے فور منصوبے کی لاگت تقریباً 242 ارب روپے بیان کی گئی، جبکہ واپڈا کے زیر انتظام پہلے مرحلے کا تخمینہ 171 ارب روپے ہے۔ دونوں اعداد الگ دائرہ کار کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں ایک ہی مالی رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔ منصوبے میں واپڈا کی مرکزی پانی ترسیلی تعمیرات کے ساتھ کراچی کے اندر آگمینٹیشن، بجلی، پائپ لائن، سڑکوں اور شہری اداروں سے متعلق کام بھی شامل ہیں۔
واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ پہلے مرحلے کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن آگمینٹیشن منصوبے کے تحت 50 میگاواٹ بجلی مہیا کرے اور وفاقی حکومت درکار اضافی فنڈز جاری کرے۔ ان کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں مختص 10 ارب روپے ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہیں، تاہم وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ نے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے مزید رقم فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ دسمبر کی مدت غیر مشروط تکمیل کی ضمانت نہیں۔ واپڈا نے اسے بجلی اور فنڈز کی بروقت دستیابی سے واضح طور پر جوڑا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ شہری آگمینٹیشن حصے کے لیے عالمی بینک کا قرض منظور اور جاری ہو رہا ہے، ضروری کاموں کے ٹینڈر دیے جا چکے ہیں اور گیس، بجلی و سڑکوں سمیت متعلقہ اداروں کو رابطے میں لیا گیا ہے۔ یہ انتظامی دعوے ہیں جن کی عملی پیش رفت ذیلی کمیٹی کے ریکارڈ اور زمینی کام سے جانچی جائے گی۔
ارکان قومی اسمبلی جاوید حنیف خان، سید امین الحق، سید وسیم حسین اور شازیہ مری نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے جاری اخراجات کے باوجود کراچی کے شہریوں کو منصوبے کا فائدہ ملنے کی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ شہر کے اندر نامکمل آگمینٹیشن اور سڑکوں سمیت شہری کام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ جاوید حنیف نے کمیٹی میں کہا کہ 40 ارب روپے کی ضرورت بتائی گئی تھی مگر وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 10 ارب روپے رکھے گئے۔
کے فور کی تکمیل سے متعلق آئندہ قابل تصدیق مراحل میں ذیلی کمیٹی کی شرائطِ کار، طلب کیے گئے مالی و تکنیکی ریکارڈ، ذمہ دار اداروں کے بیانات، فنڈز کے حقیقی اجرا، 50 میگاواٹ بجلی کے بندوبست اور دسمبر 2026 کے تعمیراتی ہدف کی پیش رفت شامل ہوں گے۔ فی الحال ثابت شدہ پارلیمانی اقدام ذیلی کمیٹی کی تشکیل ہے؛ تاخیر کی وجوہ، مالی ذمہ داری اور کسی ادارے یا فرد کی جواب دہی اس کی تحقیقات اور بعد کے فیصلوں سے طے ہوگی۔




