اسلام آباد: قومی احتساب بیورو پاکستان اور روسی فیڈریشن کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے پر چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد اور روسی پراسیکیوٹر جنرل الیگزینڈر ولادیمیرووچ گوتسان نے دستخط کیے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان شفافیت، احتساب اور قانون کی حکمرانی سے متعلق تعاون کے لیے باقاعدہ فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس میں بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے تجربات، مہارت اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ، دونوں ممالک کے قانونی نظام اور متعلقہ قانون سازی کے بارے میں معلومات کا اشتراک اور فوجداری مقدمات میں باہمی قانونی معاونت سے متعلق مشاورت شامل ہے۔
معاہدے کے تحت مشترکہ بین الاقوامی کانفرنسوں، ورکشاپس، ورکنگ میٹنگز اور گول میز اجلاسوں کے انعقاد کے ساتھ ماہرین کے باہمی دوروں اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت و استعداد کار بڑھانے میں تعاون کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ نیب کے مطابق ایک اہم شعبہ بدعنوانی یا منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والے اثاثوں کا سراغ لگانے اور ان کی بازیابی کے لیے مربوط کوششیں ہوگا۔
دونوں اداروں نے نوجوانوں میں انسداد بدعنوانی آگاہی کے لیے مشترکہ اقدامات اور کرپشن کے خلاف علمی و تحقیقی تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ مفاہمتی یادداشت تعاون کا انتظامی اور ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتی ہے؛ کسی مخصوص زیرِ تفتیش مقدمے، ملزم یا اثاثے کی بازیابی کا اعلان اس معاہدے میں نہیں کیا گیا۔ عملی نتائج کا انحصار بعد میں ہونے والی معلوماتی معاونت، متعلقہ ملکی قوانین اور باہمی قانونی طریقہ کار پر ہوگا۔
پاکستان اور روس کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار مالی جرائم میں اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ نیب نے اسے طویل مدتی پیشہ ورانہ رابطے، تربیت اور مالی جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے کی بنیاد قرار دیا ہے۔
