ریاض: سعودی عرب نے اس امریکی اخباری رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے ساتھ مخاصمت ختم کرنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن کے حکمرانوں کی حیثیت سے باضابطہ شناخت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے 5 نومبر کو جاری بیان میں کہا کہ وال اسٹریٹ جرنل میں شائع دعووں کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں۔
کریملی نے رپورٹ کو مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے حوثیوں پر یمنی حکومت کے خلاف بغاوت، ملک کو تنازعات میں دھکیلنے، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور امن کوششیں مسترد کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ یہ الزامات سعودی عہدیدار کے مؤقف کا حصہ ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ عدالتی نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ، جسے سعودی حکومت نے مسترد کیا، میں نامعلوم باخبر افراد کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ حوثیوں نے برسوں کے سعودی فضائی حملوں اور ناکہ بندی کے مبینہ اخراجات کے ازالے کے لیے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ گروپ نے یمن کے جائز حکمرانوں کی حیثیت سے سعودی شناخت چاہی، جس سے ریاض کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی پوزیشن متاثر ہوسکتی تھی۔
اخباری رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ مطالبات ایسے رابطوں کے دوران سامنے آئے جن کا مقصد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے ممکنہ سیاسی اختتام کی راہ تلاش کرنا تھا۔ تاہم سعودی عہدیدار کی واضح تردید کے بعد ان دعووں کو تصدیق شدہ مذاکراتی شرائط نہیں سمجھا جا سکتا۔ حوثی فریق کی جانب سے ان مخصوص اعداد و شرائط کے بارے میں اس رپورٹ میں کوئی آزاد باضابطہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
یہ تنازع ایسے وقت میں زیر بحث ہے جب یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی و علاقائی کشیدگی دوبارہ بڑھی ہے اور بحیرہ احمر و باب المندب کے گرد سکیورٹی صورت حال عالمی تجارت کے لیے بھی اہم بنی ہوئی ہے۔ سعودی قیادت یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتی ہے، جبکہ حوثی ملک کے بڑے حصوں پر عملی کنٹرول رکھتے ہیں۔
تازہ پیش رفت کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ سعودی حکومت کی تردید ہے۔ 51 ارب ڈالر اور سیاسی شناخت کے مبینہ مطالبات اصل اخباری رپورٹ کے دعوے ہیں، جنہیں ریاض نے قطعی طور پر غلط قرار دیا ہے۔ اس لیے کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کی حقیقی شرائط کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کے لیے فریقین کے مزید باضابطہ بیانات یا دستاویزی شواہد درکار ہوں گے۔
