انقرہ: ترکی کی پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل منظور کرلیا ہے، جس سے تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی سکیورٹی معاہدے کے نفاذ کی قانونی راہ مزید ہموار ہوگئی ہے۔ ترک پارلیمان میں بل کے حق میں 279 اور مخالفت میں 119 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 592 رکنی ایوان کے 398 ارکان نے رائے شماری میں حصہ لیا۔

معاہدے کا باضابطہ عنوان جمہوریہ ترکی، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ تینوں ممالک نے 7 اگست کو مکہ میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا اعلان اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے فریم ورک کے طور پر کیا گیا تھا۔

ترک پارلیمان میں توثیقی بل پر بحث کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان نے معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ بعض اپوزیشن ارکان نے معاہدے کے دائرہ کار اور پارلیمانی نگرانی سے متعلق تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ اس کے عملی قواعد واضح ہونے چاہییں تاکہ ترکی کی دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ کسی ممکنہ تضاد سے بچا جا سکے۔ بل بالآخر واضح اکثریت سے منظور ہوگیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی جانب سے معاہدے کی توثیق مکمل کر چکے ہیں۔ اس سے قبل 5 اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں پر عمل درآمد اور طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی تعیناتی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا تھا، تاہم ہر ملک میں عملی اقدامات اس کے قومی قوانین اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تابع ہیں۔

ترکی کی پارلیمانی منظوری اس معاہدے کے ادارہ جاتی مرحلے میں اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے تحت مستقبل میں ہونے والی کسی مخصوص فوجی تعیناتی، آپریشن یا عملی کارروائی کو الگ سرکاری فیصلوں اور قومی قوانین کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ سہ فریقی دفاعی فریم ورک ایسے وقت آگے بڑھ رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے علاقائی سلامتی، توانائی تنصیبات اور بحری راستوں کے تحفظ کو تینوں ممالک کے لیے اہم پالیسی مسئلہ بنا دیا ہے۔