اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نے سال کی تیسری سہ ماہی کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے 9,180 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کی ریکوری کی اطلاع دی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیسری سہ ماہی کی ریکوریز پہلی اور دوسری سہ ماہی کی مجموعی ریکوری کے مقابلے میں 169 فیصد زیادہ رہیں۔ یہ اعداد و شمار نیب کی اپنی رپورٹ اور سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریکوری میں سب سے بڑا حصہ زمین کی مالیت کا ہے۔ نیب نے بتایا کہ سکھر، ملتان، لاہور، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 7,598.30 ارب روپے مالیت کی زمین ریکور کی گئی۔ اثاثوں کی ریکوری کے سرکاری اعداد میں نقد رقم کے ساتھ غیر نقد اثاثوں اور زمین کی تخمینی مالیت شامل ہو سکتی ہے، اس لیے مجموعی رقم کو براہ راست قومی خزانے میں جمع ہونے والی نقد رقم کے مساوی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

تیسری سہ ماہی کی رپورٹ ادارے کی احتسابی کارروائیوں اور ریکوری کے نتائج کا ایک سرکاری جائزہ پیش کرتی ہے۔ نیب کے لیے ریکوری کا حجم کارکردگی کے اہم پیمانوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس نوعیت کے اعداد کی مکمل تشریح کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کتنی رقم نقد، کتنی جائیداد یا زمین اور کتنی دیگر اقسام کے اثاثوں کی شکل میں واپس حاصل کی گئی۔ موجودہ جاری کردہ خلاصے میں زمین کی بڑی مالیت الگ سے بیان کی گئی ہے۔

نیب نے 169 فیصد اضافے کا موازنہ تیسری سہ ماہی اور پہلی دو سہ ماہیوں کی مشترکہ ریکوری سے کیا ہے۔ اس لیے یہ شرح سال بہ سال تبدیلی نہیں بلکہ اسی سال کے مختلف ادوار کے درمیان ادارے کے بیان کردہ موازنے کی نمائندگی کرتی ہے۔ رپورٹ میں درج اعداد احتسابی ادارے کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں اور ان کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں اثاثوں کی رپورٹ شدہ ریکوری میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مستقبل میں تفصیلی مالی یا آڈٹ دستاویزات سامنے آنے پر نقد اور غیر نقد ریکوری کی مزید درجہ بندی اس مجموعی رقم کے معاشی اور مالی اثر کو بہتر طور پر واضح کر سکے گی۔