اسلام آباد: بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان نے حج اور عمرہ کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے نادرا سے منسلک ویکسینیشن ثبوت لازمی قرار دے دیا ہے، اور نئی شرط 14 ستمبر 2026 سے نافذ ہو گئی ہے۔ Dawn کے مطابق BHS-P نے 7 ستمبر کو متعلقہ ایئرلائن حکام کو ہدایات جاری کی تھیں جن میں روانگی سے پہلے ویکسینیشن اور اس کے ڈیجیٹل اندراج کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی۔
تازہ ہدایات کے مطابق حج و عمرہ کے مسافروں کو مجاز ویکسینیشن مرکز سے ایسا ڈیجیٹل ویکسین کارڈ حاصل کرنا ہوگا جو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کے نظام سے مربوط ہو۔ ہدایات میں پولیو، میننجائٹس، زرد بخار اور انفلوئنزا سے متعلق پیشگی ویکسینیشن ضروریات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ہر مسافر پر کون سی ویکسین لاگو ہوگی یہ سفر کی نوعیت، منزل اور متعلقہ صحت قواعد کے مطابق طے ہو سکتا ہے۔
BHS-P نے ایئرلائنز کے چیف آپریٹنگ افسران اور اسٹیشن منیجرز کو کہا ہے کہ وہ اپنے ٹریول ایجنٹس اور مسافروں کو نئی شرط سے آگاہ کریں تاکہ روانگی کے وقت دستاویزات کی کمی کے باعث سفر میں رکاوٹ نہ آئے۔ ادارے کے مطابق حج و عمرہ کے لیے صرف ایسا ویکسینیشن ثبوت قابل قبول ہوگا جو نادرا سے مربوط ہو اور مجاز مرکز سے جاری کیا گیا ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی گورنمنٹ سول ڈسپنسری کو حج و عمرہ کے بین الاقوامی مسافروں کے لیے مجاز ویکسینیشن مرکز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ حکام نے ہوائی اڈوں پر بھی ویکسینیشن اور آن لائن رجسٹریشن کی سہولت متعارف کرانے کی تیاری کا ذکر کیا ہے۔ جن مسافروں کو ہوائی اڈے پر یہ عمل مکمل کرنا ہو، انہیں ممکنہ تاخیر سے بچنے کے لیے پرواز سے کئی گھنٹے پہلے پہنچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ویکسینیشن فیس نادرا کے ای سہولت نظام کے ذریعے ادا کی جا سکے گی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے بھی مسافروں کے لیے سفری ہدایت جاری کرتے ہوئے نادرا سے مربوط ویکسینیشن ثبوت کی پابندی پر زور دیا۔ اس انتظام کا مقصد صحت سے متعلق سفری دستاویزات کو قابل تصدیق ڈیجیٹل ریکارڈ سے جوڑنا اور ایئرپورٹ پر جعلی یا غیر مکمل سرٹیفکیٹس کے مسئلے کو کم کرنا ہے۔
یہ شرط کسی نئی ویکسین کے متعارف ہونے کا اعلان نہیں بلکہ موجودہ سفری ویکسینیشن تقاضوں کے ثبوت کو نادرا کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا انتظامی فیصلہ ہے۔ مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ایئرلائن، مجاز ویکسینیشن مرکز اور متعلقہ منزل کے تازہ صحت قواعد بھی چیک کریں کیونکہ مختلف ممالک یا سفر کی اقسام کے لیے مخصوص ویکسین اور مدت کی شرائط مختلف ہو سکتی ہیں۔
