اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی جس میں صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال، پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات ایسے وقت ہوئی جب خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی اقدام کے امکان سے متعلق سیاسی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
گورنر ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس خدشے پر بات کی کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے دوران سکیورٹی چیک پوسٹوں سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت آسان ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر صدر مملکت اور وزیر اعظم صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی کو ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ یہ مؤقف ایک سیاسی و آئینی امکان کی نشاندہی کرتا ہے؛ رپورٹ میں گورنر راج کے باقاعدہ نفاذ یا اس کا حتمی فیصلہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ملاقات میں صوبے میں بدامنی، مجموعی سیاسی ماحول اور اسلام آباد مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر ہاؤس کے بیان میں خیبرپختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی سے متعلق مذاکراتی رویے پر تنقید کی گئی۔ محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے مارچ میں مبینہ استعمال کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ دعویٰ حکومتی فریق کا مؤقف ہے اور اسے کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید بھی ملاقات میں موجود تھے اور گفتگو کا محور صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال تھی۔ گورنر نے کہا کہ عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خلاف تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
ڈان نے ایک نامعلوم حکومتی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور حکومت کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف صوبائی تعاون سے متعلق اس کے مطالبات جائز تھے۔ چونکہ یہ اطلاع نامعلوم ذریعے سے منسوب ہے، اس لیے اسے حتمی سرکاری اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئینی اقدام کی صورت میں متعلقہ آئینی طریقہ کار اور مجاز حکام کے باضابطہ فیصلے کی ضرورت ہوگی۔
