اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) میں 10 ایکڑ پر مشتمل ری جنریٹو ایگریکلچر بلاک کا افتتاح کیا ہے اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کو ہدایت کی ہے کہ زرعی تحقیق کو ایسے عملی نتائج سے جوڑا جائے جو براہ راست کسانوں کی پیداوار، آمدن اور ملکی غذائی تحفظ میں بہتری لائیں۔

وزیر نے این اے آر سی میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خریف 2026 کے دوران مختلف تحقیقی اداروں کی کارکردگی اور ربیع 2026-27 کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے مقامی فصلوں کی اقسام کی تیاری، زرعی ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن اور درآمدی انحصار کم کرنے کو تحقیق کے اہم اہداف قرار دیا۔

ری جنریٹو ایگریکلچر کا تصور مٹی کی صحت، نامیاتی مادے، پانی کے بہتر استعمال اور فصلوں کے پائیدار نظام پر توجہ دیتا ہے۔ این اے آر سی میں قائم کیا گیا نیا 10 ایکڑ بلاک ان طریقوں کی تحقیق، آزمائش اور عملی مظاہرے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس نوعیت کے تجربات کا مقصد مختلف فصلوں اور مقامی حالات میں ایسے طریقوں کی افادیت جانچنا ہے؛ افتتاح بذات خود کسی مخصوص پیداوار یا بچت کے نتیجے کی ضمانت نہیں ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزارت، پی اے آر سی اور این اے آر سی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر نے کہا کہ سرکاری تحقیقی اداروں کو صرف سائنسی مقالوں یا تجرباتی نتائج تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کامیاب ٹیکنالوجی اور اقسام کو کسانوں تک منتقل کرنے، نجی شعبے کے ساتھ کمرشلائز کرنے اور ملکی زرعی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے واضح راستہ بنانا چاہیے۔

پاکستان کو خوردنی تیل، بیج، دالوں اور دیگر زرعی اشیا میں مختلف سطحوں پر درآمدی ضرورت کا سامنا رہتا ہے، جس کے باعث زرعی تحقیق کو درآمدی متبادل اور پیداوار میں اضافے سے جوڑنا حکومتی پالیسی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی مقامی قسم یا ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے اس کی آزمائش، منظوری، بیج یا آلات کی دستیابی اور کسانوں تک رسائی بنیادی مراحل ہیں۔

وزارت نے پی اے آر سی سے تحقیق کے نتائج کی نگرانی اور ان کے معاشی اثرات کو زیادہ واضح بنانے پر بھی زور دیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی تحقیق کو کھیت کی سطح پر قابل استعمال حل میں تبدیل کرکے موسمیاتی دباؤ، پانی کی کمی اور بڑھتی پیداواری لاگت جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔