اسلام آباد/نارووال: پاکستان کے دفتر خارجہ نے نارووال کے گاؤں سراج، اڈا سراج، میں واقع ایک صدی سے زیادہ قدیم ہندو مندر کو دانستہ طور پر منہدم کیے جانے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق عمارت کا حصہ شدید بارشوں کے باعث گرا اور مقامی انتظامیہ نے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد بحالی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 4 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ مندر کی ساخت 21 جولائی 2026 کو طوفانی بارش سے متاثر ہوئی تھی۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام نے مقام کا سروے کیا اور عمارت کی مرمت و بحالی کے لیے کارروائی شروع کی۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ واقعے کی وجہ سے متعلق متضاد دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تحقیق سامنے نہیں آئی۔

بھارتی وزارت خارجہ نے 2 ستمبر کو اس واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک قدیم اقلیتی عبادت گاہ کے خلاف مبینہ توڑ پھوڑ قرار دیا تھا۔ بھارتی ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان سے شفاف تحقیقات، ذمہ دار افراد کے تعین اور مندر کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ نئی دہلی کے اس بیان کے جواب میں اسلام آباد نے کہا کہ بھارت حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور بارش سے ہونے والے نقصان کو دانستہ انہدام بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بعض اقلیتی حقوق کے نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مندر کی عمارت جان بوجھ کر گرائی گئی تاکہ ملحقہ مدرسے کے لیے جگہ یا زمین حاصل کی جا سکے۔ یہ الزام ثابت شدہ نتیجہ نہیں ہے اور سرکاری اداروں نے اس کی تردید کی ہے۔ رپورٹنگ میں اس دعوے کو الزام اور سرکاری مؤقف کو جواب کے طور پر الگ رکھنا ضروری ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق نے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا اور ڈپٹی کمشنر نارووال کے ہمراہ مقام کا دورہ کیا۔ بورڈ سے منسوب بیان کے مطابق دستیاب شواہد کے جائزے کے بعد حکام نے دانستہ انہدام کی اطلاعات مسترد کیں اور کہا کہ قدیم ڈھانچے کا ایک حصہ حالیہ شدید اور طوفانی بارشوں سے گرا۔ بورڈ نے پنجاب حکومت کے تعاون سے مرمت، تزئین اور بحالی کا باقاعدہ کام شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

اوقاف حکام نے یہ بھی کہا کہ مندر اس وقت فعال عبادت گاہ نہیں تھا اور سراج گاؤں یا آس پاس مستقل ہندو آبادی موجود نہیں۔ تاہم کسی عبادت گاہ کا غیر فعال ہونا اس کے تاریخی، مذہبی یا ثقافتی تحفظ کی ذمہ داری ختم نہیں کرتا؛ اسی لیے بحالی، زمین کے ریکارڈ اور مقام کے مستقبل کے استعمال سے متعلق واضح سرکاری دستاویزات اہم رہیں گی۔

واقعے کی تاریخ سے متعلق شائع شدہ مواد میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں 21 جولائی کا ذکر ہے، جبکہ بعض دیگر رپورٹس نے 21 اگست کی تاریخ دی۔ اس اختلاف کی سرکاری وضاحت ابھی سامنے نہیں آئی۔ مقام کے سروے، بارش کے ریکارڈ، ملکیتی دستاویزات اور انہدام سے پہلے اور بعد کی تصاویر کی باقاعدہ اشاعت تنازع کے حقائق واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے جواب میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حالات پر بھی تنقید کی، جبکہ بھارتی بیان نے پاکستان میں اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کو موضوع بنایا۔ دونوں حکومتوں کی وسیع سیاسی بیان بازی سے الگ، زیر بحث مخصوص واقعے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ عمارت کس وجہ سے گری، نقصان کتنا ہوا، اور بحالی کب اور کس معیار کے مطابق مکمل ہو گی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ بھارت نے باضابطہ اعتراض اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، پاکستان نے الزام مسترد کیا، اور پاکستانی حکام نے بارش سے نقصان اور بحالی کے آغاز کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ دانستہ انہدام کا الزام اور اس کی تردید دونوں زیر تنازع دعوے ہیں؛ حتمی نتیجہ شفاف تحقیق اور قابل جانچ دستاویزی شواہد سے ہی اخذ کیا جا سکے گا۔