بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی کے قریب ایک 220 کے وی ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن پائلون کو دھماکے سے نقصان پہنچنے کے بعد سندھ اور پنجاب کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ گوٹھ مغل خان بگٹی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے بجلی کے پائلون کے نیچے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا۔
نصیرآباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اسد خان ناصر کے مطابق دھماکا ہفتے کی علی الصبح ہوا۔ ابتدائی معلومات میں اسے تخریب کاری کا واقعہ قرار دیا گیا ہے، تاہم ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے علاقے میں شواہد جمع کرنے اور ذمہ داروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی۔
متاثرہ ٹرانسمیشن لائن اوچ پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل میں استعمال ہوتی ہے۔ پائلون کو نقصان پہنچنے کے باعث سندھ اور پنجاب کے کئی علاقوں کو جانے والی بجلی متاثر ہوئی، جس سے علاقائی گرڈ پر دباؤ اور صارفین کے لیے تعطل پیدا ہوا۔ بجلی کی بحالی کے لیے تکنیکی ٹیموں کو متاثرہ مقام پر مرمت اور ٹرانسمیشن نظام کی جانچ کرنا پڑتی ہے، جبکہ ہائی وولٹیج ڈھانچے کی بحالی حفاظتی تقاضوں کے باعث مرحلہ وار کی جاتی ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے صرف مقامی بجلی بندش تک محدود اثر نہیں رکھتے۔ بڑے ٹرانسمیشن پائلون قومی گرڈ کے مختلف حصوں اور پیداواری مراکز کو صارف علاقوں سے جوڑتے ہیں، اس لیے ایک اہم لائن کو نقصان پہنچنے سے متبادل راستوں پر بوجھ بڑھ سکتا ہے اور متعدد اضلاع میں سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے واقعات مرمت کے اخراجات کے ساتھ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں دھماکا خیز مواد کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن حملہ آوروں کی شناخت یا کسی گروہ کی ذمہ داری کے بارے میں حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے واقعے کو کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تفتیشی اداروں کے لیے جائے وقوع سے حاصل شواہد، دھماکا خیز مواد کی نوعیت اور ممکنہ نقل و حرکت کی معلومات اہم ہوں گی۔
واقعہ بلوچستان میں اہم توانائی تنصیبات اور بین الصوبائی ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی حفاظت کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ فوری ترجیح متاثرہ بجلی نظام کی محفوظ بحالی ہے، جبکہ طویل مدتی سطح پر حساس پائلونز کی نگرانی، رسائی کنٹرول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ حفاظتی رابطہ ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
